’فلسطین میں بحران پیدا ہونے کا خدشہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد فلسطین کی امداد بند کیئے جانے سے وہاں حالات ابتر ہو جائیں گے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ عالمی امداد بند ہونے کی وجہ سے فلسطین میں غربت بڑھ جائے گی اور سکیورٹی کے حالات مزید خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل نے فلسطینی علاقے سے وصول ہونے والے ٹیکس فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ ، یورپی یونین اور جاپان نے بھی فلسطین کو دی جانی والی امداد ختم کر دی ہے۔ کچھ مسلمان ممالک اور روس نے فلسطین کی امداد کا اعلان کیا ہے لیکن یہ ابھی تک وعدوں تک محدود ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کا اصرار ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی امداد اس وقت تک معطل کر رکھیں گے جب تک حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور مسلح جہدوجہد کا راستہ ترک نہیں کرتی۔ روس کا بھی موقف ہے کہ حماس مسلح جہدوجہد ختم کر کے اسرائیل کو تسلیم کر لے لیکن وہ ایسے نہ کرنے پر حماس کے خلاف ایکشن لینے کا حامی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں فلسطین: مالی بحران سنگین09 April, 2006 | آس پاس گلیاں خالی کر دیں: حماس01 April, 2006 | آس پاس شدید مالی بحران کا شکار ہیں: ہنیہ05 April, 2006 | آس پاس حماس وزیر کئی گھنٹوں بعد رہا06 April, 2006 | آس پاس فلسطین: یورپ نےامداد روک دی07 April, 2006 | آس پاس حماس: امریکی امداد بھی معطل07 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||