شدید مالی بحران کا شکار ہیں: ہنیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین کے نومنتخب وزیراعظم اسمٰعیل ہنیہ نے فلسطینی کابینہ کے پہلے باقاعدہ اجلاس میں فلسطینی انتظامیہ کو درپیش شدید مالی بحران کی تصدیق کی ہے۔ حماس حکومت کی کابینہ کہ پہلے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ورثے میں ایک ایسی وزارتِ خزانہ ملی ہے جس کا خزانہ خالی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئی حکومت فلسطینی انتظامیہ کے لاکھوں ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اسمٰعیل ہنیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے میں ملازمین کو حکومتی وزراء پر فوقیت دی جائےگی۔ فلسطینی ملازمین کو مارچ کی تنخواہ اگلے ہفتے دی جانی ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کو درپیش مالی بحران اس وقت سے شدید تر ہوگیا ہے جب سے اسرائیل نے فلسطینی حکومت کو فلسطینیوں کی جانب سے ادا کردہ ماہانہ محصولات کی رقم کی فراہمی روک دی ہے۔ مغربی ممالک نے بھی فلسطینی انتظامیہ کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں براہِ راست مالی امداد کی فراہمی روکنے کی دھمکی دی ہے۔
ادھر حماس نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ ’اپنے ہمسایوں کے ساتھ مل کر آزادی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے‘۔ حماس کی فلسطینی حکومت کے وزیر خارجہ محمود ظاہر نے اقوام متحدہ کو اپنے پہلے خط میں کہا ہے اسرائیل کی زمینوں پر قبضے کی پالیسی کی موجودگی میں دو ریاستی منصوبے کے ذریعے امن کے قیام کی تجویز پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔ محمود ظاہر نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ’آزاد ریاست کے حق‘ کے لیئے عالمی برداری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ حماس اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی آئی ہے اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے نام یہ خط بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ خط کو باریکی سے پڑھا جائے گا۔ | اسی بارے میں حماس کے لیئے سعودی مالی امداد12 March, 2006 | آس پاس حماس کی حکومت میں نہیں: فتح18 March, 2006 | آس پاس حماس کا ایجنڈا پارلیمان کے سامنے27 March, 2006 | آس پاس گلیاں خالی کر دیں: حماس01 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||