حماس کی حکومت میں نہیں: فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح نے حماس کی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ الفتح کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حماس کے سیاسی پروگرام کے بارے میں ہفتوں سے چلنے والی بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔ الفتح جنوری کے انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکی تھی اور تب سے اس کی کوشش ہے کہ حماس کی حکومت فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے ماضی کے سمجھوتوں پر عمل کرے۔ حماس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی کے سمجھوتوں پر عمل کرنا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مساوی ہے۔ جنوری کے عام انتخابات میں شدت پسند تنظیم حماس نے ایک سو بتیس میں سے چوہتر پارلیمانی نشستیں جیت لی تھیں۔ جبکہ الفتح یاسر عرفات نے قائم کی تھی اور کئی عشروں سے فلسطینی سیاست میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الفتح کے بغیر حماس کی حکومت کے لیے فلسطینی انتظامیہ کو چلانا ایک مشکل چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ امید کی جارہی تھی کہ اگر الفتح حکومت میں شریک ہوتی تو اس کے وزراء مغربی ممالک اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ذمہ داریاں سنبھالتے۔ اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین حماس کو شدت پسند تنظیم قرار دیتے ہیں۔ امریکہ اور یورپی یونین نے کہا ہے کہ اگر حماس کی حکومت اسرائیل کے ساتھ امن راستے پر نہیں چلتی اور حماس کے کارکن ہتھیار نہیں ڈالتے تو وہ فلسطینی انتظامیہ کو دی جانے والی امداد روک دیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دوسری جانب حماس کے رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کی زندگی کے کئی شعبوں میں اہم اصلاحات کی فوری ضرورت ہے اور ان اصلاحات کے لیے کام کرنا الفتح کے ساتھ ملکر آسان ہوتا۔ | اسی بارے میں حماس اور روس کے ماسکومیں مذاکرات03 March, 2006 | آس پاس مذاکرات بڑی پیش رفت: حماس04 March, 2006 | آس پاس حماس مسلح لڑائی جاری رکھے: ایمن05 March, 2006 | آس پاس فلسطینی پارلیمنٹ بحران کی شکار 07 March, 2006 | آس پاس حماس کے لیئے سعودی مالی امداد12 March, 2006 | آس پاس حکومت کا قیام، حماس کی کوششیں13 March, 2006 | آس پاس جریکو میں اسرائیلی کارروائی 15 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||