BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس مسلح لڑائی جاری رکھے: ایمن
ایمن الظواہری
کسی بھی فلسطینی کو یہ حق نہیں ہے کہ مٹی کا ایک ٹکڑا کسی کو بھی دے: ایمن الظواہری
ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ پر القاعدہ کے نائب رہنما ایمن الظواہری سے منسوب ایک بیان نشر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کو تسلیم نہ کرے۔

حماس حالیہ فلسطینی انتخابات میں کامیابی کے بعد اب اقتدار میں ہے۔ اس وڈیو پیغام میں ایمن الظواہری نے حماس سے کہا ہے کہ وہ مسلح لڑائی جاری رکھے۔ الظواہری کے بیان پر اپنے ردعمل میں حماس کے ایک نمائندے نے القاعدہ کے رہنما سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔

القاعدہ کے رہنما نے یورپی اخباروں میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون شائع ہونے پر مغرب کی تنقید بھی کی ہے۔ ان کارٹونوں کے خلاف دنیا کی بیشتر مسلم آبادیوں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

الجزیرہ نے یہ نہیں انکشاف کیا ہے کہ ایمن الظواہری کا وڈیو کیسے دستیاب ہوا۔ وڈیو میں ایمن الظواہری ایک کالی پگڑی اور سفید کرتا پہنے ہوئے ایک پردے کے سامنے بیٹھے ہیں۔

ایمن الظواہری نے جنوری کے انتخابات کے بعد سبکدوش ہونے والی فلسطینی انتظامیہ پر فلسطینیوں سے بےوفائی کے لیے بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا: ’کسی بھی فلسطینی کو یہ حق نہیں ہے کہ مٹی کا ایک ٹکڑا کسی کو بھی دے۔‘

بیان پر حماس کا ردعمل
 حماس نے پہلے بھی القاعدہ کی جانب سے امریکہ، میڈرڈ اور لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ حماس پرامن اور جمہوری طریقے سے حکومت چلانا چاہتی ہے۔
فلسطینی رکن پارلیمان ڈاکٹر محمود رماہی
انہوں نے حماس سے اپیل کی کہ وہ ’مسلح جد و جہد جاری رکھے‘ اور ماضی میں فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل کے ساتھ جو معاہدے کیے ہیں انہیں مسترد کردے۔ ایمن الظواہری نے ان سمجھوتوں کو ’ہتھیار ڈالنے کے معاہدے‘ قرار دیا ہے۔

رائٹرز خبررساں ایجنسی کے مطابق اس بیان پر ردعمل میں حماس کے اہلکار اسامہ رمضان نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس طرح کا مشورہ دینے میں ’کوئی غلط بات نہیں‘ ہے لیکن حماس مسلم ’امہ‘ سے حمایت چاہتی ہے۔

تاہم حماس سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی رکن پارلیمان ڈاکٹر محمود رماہی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت القاعدہ سے متاثر نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے پہلے بھی القاعدہ کی جانب سے امریکہ، میڈرڈ اور لندن میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس پرامن اور جمہوری طریقے سے حکومت چلانا چاہتی ہے۔

اپنے وڈیو بیان میں متنازعہ کارٹونوں کے بارے میں ایمن الظواہری نے کہا کہ مغرب نے پیغمبر اسلام کی دانستہ طور پر بےحرمتی کی ہے اور اپنی پالیسیوں میں دوہرے معیار کا مرتکب ہے۔ ’انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا اور وہ بغیر معذرت کیے ایسا کرتے جارہے ہیں، جبکہ کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ یہودیوں کا نقصان پہنچائے یا ہولوکاسٹ پر یہودیوں کے موقف کو چیلنج کرے یا ہم جنس پرستوں کی تضحیک کرے۔‘

القاعدہ کے رہنما نے مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر تعصبانہ پالیسی کے لیے کچھ ممالک کی نشاندہی بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’فرانس میں ایک مسلم والد اپنی بیٹی کو جنسی روابط رکھنے سے نہیں روک سکتا کیوں کہ اسے قانون کا تحفظ حاصل ہے لیکن وہی قانون اس کو سزا دے گا اگر وہ دوپٹہ سرپر لیتی ہے۔‘

ایمن الظواہری نے مغربی ملکوں اور مغرب حامی مسلم حکومتوں کے خلاف حملوں کی اپیل کی۔ اس بارے میں انہوں نے سعودی عرب، اردن، مصر، پاکستان اور تیونس کی نشاندہی کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد