فلسطینی پارلیمنٹ بحران کی شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی کی نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس بحران کی صورت میں ختم ہوا اور فتح کے ارکانِ پارلیمان احتجاجاً اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ اس بحران کی وجہ شدت پسند حماس کی پارلیمنٹ میں اکثریت تھی۔ جسے استعمال کرتے ہوئے حماس کے ارکان نے ان اقدامات کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جنہیں گزشتہ پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ ایک قومی حکومت کی تشکیل کے لیے حماس کے اردوں پر عمل کو اور دشوار بنا دے گا۔ حماس نے جن اقدام کو منسوخ کرنے کی کوشش کی ان میں حریف فتح گروپ کو اہم انتظامی عہدوں پر حصہ مختص کرنے اور فلسطینی صدر محمود عباس کے اختیارات میں توسیع کے فیصلے شامل تھے۔ فتح گروپ کے واک آؤٹ کرنے والے ارکان کا کہنا ہے کہ حماس کو یہ فیصلے منسوخ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ حماس کے رکن نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ کے اندر بحث کے ذریعہ اپنے جمہوری حق کو استعمال کیا ہے جب کہ فتح کے ایک ممتاز رکن پارلیمنٹ صائب عرقات کا کہنا تھا کہ جمہوریت قوانین کی خلاف ورزی کا نام نہیں ہے۔ جمہوریت اس بات کا نام نہیں ہے کہ آپ کے چونسٹھ ارکان ہاتھ اٹھا کر قانون کی عملداری کی خلاف ورزی کریں۔ ہم کل صبح یہ معاملہ لے کر ہائی کورٹ میں جارہے ہیں۔ | اسی بارے میں سرحد کیلیے یکطرفہ انخلاء: اسرائیل05 March, 2006 | آس پاس مذاکرات بڑی پیش رفت: حماس04 March, 2006 | آس پاس حماس اور روس کے ماسکومیں مذاکرات03 March, 2006 | آس پاس حماس کو روس کی دعوت03 March, 2006 | آس پاس فلسطین میں دو افراد ہلاک02 March, 2006 | آس پاس فلسطینی صدر کی استعفی کی دھمکی26 February, 2006 | آس پاس امریکی امداد واپس کرنے کا فیصلہ18 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||