فلسطینی و اسرائیلی حملے، 10 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کی حکومت بننے کے بعد اسرائیلی شہر تل ابیب پر کیے جانے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تل ابیب میں ہونے والے اس حملے میں تقریباً پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ اسرائیلی کی جانب سے کیے جانے والے جوابی حملے میں ایک انیس سالہ فلسطینی نوجوان ہلاک ہوا ہے۔ فلسطینی حملے کے بعد قائم مقام اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ ان کی حکومت غور کر رہی ہے کہ اس خود کش حملے کا کیا رد عمل ہونا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ تل ابیب میں مشرق وسطیٰ کی ایک مرغوب غذا فلافل کے ٹھیلے کے قریب ہوا۔ جنوری میں بھی اسی ٹھیلے کے قریب ایک خودکش حملے میں پندرہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ دھماکہ غرب اردن کے علاقے جنین سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک رکن نے کیا ہے۔ اسرائیلی حملے میں توپ خانہ استعمال کیا گیا جس کا نشانہ شمالی غزہ کا علاقہ تھا۔ اسرائیلی گولے کا نشانہ بننے والا نوجوان بیت اللیہ کے ایک گراؤنڈ میں فٹبال کھیل رہا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ انہوں نے تل ابیب کے باہر ایک گاڑی سے تین فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔ ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل کے مطابق زخمیوں میں سے پندرہ افراد کی حالت نازک ہے۔ فلسطینی انتظامیہ میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا خود کش حملہ ہے۔ حماس کی قیادت والی فلسطینی حکومت کے برعکس حملے کا دعویٰ کرنے والی دونوں تنظیموں نےاسرائیل کے خلاف جنگ بندی نہیں کی۔ حماس کے ایک ترجمان نے اس حملے کو اسرائیلی ’جارحیت‘ کا رد عمل قرار دیا۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے حملے کی مذمت کی۔ اسرائیل حکومت کے ترجمان نے حماس پر ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ: اسرائیلی جوڑا ہلاک، فوجی زخمی24 July, 2005 | آس پاس اسرائیل میں بم دھماکہ پانچ ہلاک26 October, 2005 | آس پاس ’بہن نے حملہ آور کو نہیں اکسایا‘28 November, 2005 | آس پاس اسرائیل:خودکش حملہ آور ہلاک19 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||