BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی و اسرائیلی حملے، 10 ہلاک
تل ابیب
پندرہ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے
حماس کی حکومت بننے کے بعد اسرائیلی شہر تل ابیب پر کیے جانے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تل ابیب میں ہونے والے اس حملے میں تقریباً پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جب کہ اسرائیلی کی جانب سے کیے جانے والے جوابی حملے میں ایک انیس سالہ فلسطینی نوجوان ہلاک ہوا ہے۔

فلسطینی حملے کے بعد قائم مقام اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ ان کی حکومت غور کر رہی ہے کہ اس خود کش حملے کا کیا رد عمل ہونا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ تل ابیب میں مشرق وسطیٰ کی ایک مرغوب غذا فلافل کے ٹھیلے کے قریب ہوا۔ جنوری میں بھی اسی ٹھیلے کے قریب ایک خودکش حملے میں پندرہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

رد عمل
 خودکش حملہ اسرائیلی جارحیت کا ردِ عمل ہے
حماس
خبر رساں ادارے رائٹرز نے الاقصی بریگیڈ کے ایک رکن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ غزہ میں ’فلسطینیوں کے قتل عام‘ کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے جبکہ ایک اور فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے اسرائیلی ریڈیو کو فون کر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ دھماکہ غرب اردن کے علاقے جنین سے تعلق رکھنے والے ان کے ایک رکن نے کیا ہے۔ اسرائیلی حملے میں توپ خانہ استعمال کیا گیا جس کا نشانہ شمالی غزہ کا علاقہ تھا۔ اسرائیلی گولے کا نشانہ بننے والا نوجوان بیت اللیہ کے ایک گراؤنڈ میں فٹبال کھیل رہا تھا۔

مذمت
 حماس نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں
اسرائیل
پولیس نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے چھ افراد میں حملہ آور بھی شامل ہے۔

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے تل ابیب کے باہر ایک گاڑی سے تین فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔

ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل کے مطابق زخمیوں میں سے پندرہ افراد کی حالت نازک ہے۔

فلسطینی انتظامیہ میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا خود کش حملہ ہے۔ حماس کی قیادت والی فلسطینی حکومت کے برعکس حملے کا دعویٰ کرنے والی دونوں تنظیموں نےاسرائیل کے خلاف جنگ بندی نہیں کی۔

حماس کے ایک ترجمان نے اس حملے کو اسرائیلی ’جارحیت‘ کا رد عمل قرار دیا۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے حملے کی مذمت کی۔ اسرائیل حکومت کے ترجمان نے حماس پر ’دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد