BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 November, 2005, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بہن نے حملہ آور کو نہیں اکسایا‘
پروین
پروین پر اپنے بھائی کو دہشتگردی پر اکسانے کا الزام لگایا تھا۔
ایک برطانوی عدالت نے ایک ممکنہ خود کش حملہ آور کے رشتہ داروں کو ان الزامات بری کر دیا ہے کہ انہوں نے عمر شریف کو اسرائیل میں خود کش حملہ کرنے پر اکسایا تھا۔

چھتیس سالہ پروین شریف جو ڈربی میں ٹیچر ہیں، کو عدالت نے ان الزامات سے بری کر دیا ہے، کہ انہوں نے اپنے ستائیس سالہ بھائی عمر شریف کودہشت گردی پر اکسایا تھا۔

عمر شریف کی لاش گزشتہ برس تل ابیب میں ہونے والے بم دھماکے کے بارہ روز بعد سمندر سے برآمد ہوئی تھی۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ لندن کے آصف حنیف نے خود کو بم سے اڑا لیا۔ لیکن شریف اپنا بم چلانے میں ناکام ہونے کے بعد سے لاپتہ تھا۔29 اپریل 2003 کو ہونے والے اس حملے میں تین افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے تھے۔

شریف کی اہلیہ طاہرہ تبسم اور ان کے بھائی زاہد اور بہن پروین نے دہشت گردی کے بارے میں اطلاعات فراہم کرانے میں الزامات سے انکار کیا تھا۔

نئے قوانین کے تحت یہ پہلا مقدمہ تھا جن کے مطابق عوام پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردی کے ممکنہ حملے کے بارے میں چاہے اس کے رابطے بیرونی ملکوں میں ہوں پولیس کو مطلع کریں۔

عمر کے والد محمد شریف پاکستان سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے اور ڈربی میں کامیابی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ عمر شریف ان کے چھ بچوں میں سے ایک ہے۔

طاہرہ سے عمر کی ملاقات لندن کے کنگز کالج میں ہوئی تھی جہاں دونوں ریاضی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔

اسی بارے میں
’ دہشت گردی کا الزام‘
16.11.2002 | صفحۂ اول
لندن:’دہشت گرد‘گرفتار
07.01.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد