’بہن نے حملہ آور کو نہیں اکسایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی عدالت نے ایک ممکنہ خود کش حملہ آور کے رشتہ داروں کو ان الزامات بری کر دیا ہے کہ انہوں نے عمر شریف کو اسرائیل میں خود کش حملہ کرنے پر اکسایا تھا۔ چھتیس سالہ پروین شریف جو ڈربی میں ٹیچر ہیں، کو عدالت نے ان الزامات سے بری کر دیا ہے، کہ انہوں نے اپنے ستائیس سالہ بھائی عمر شریف کودہشت گردی پر اکسایا تھا۔ عمر شریف کی لاش گزشتہ برس تل ابیب میں ہونے والے بم دھماکے کے بارہ روز بعد سمندر سے برآمد ہوئی تھی۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ لندن کے آصف حنیف نے خود کو بم سے اڑا لیا۔ لیکن شریف اپنا بم چلانے میں ناکام ہونے کے بعد سے لاپتہ تھا۔29 اپریل 2003 کو ہونے والے اس حملے میں تین افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے تھے۔ شریف کی اہلیہ طاہرہ تبسم اور ان کے بھائی زاہد اور بہن پروین نے دہشت گردی کے بارے میں اطلاعات فراہم کرانے میں الزامات سے انکار کیا تھا۔ نئے قوانین کے تحت یہ پہلا مقدمہ تھا جن کے مطابق عوام پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردی کے ممکنہ حملے کے بارے میں چاہے اس کے رابطے بیرونی ملکوں میں ہوں پولیس کو مطلع کریں۔ عمر کے والد محمد شریف پاکستان سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے اور ڈربی میں کامیابی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ عمر شریف ان کے چھ بچوں میں سے ایک ہے۔ طاہرہ سے عمر کی ملاقات لندن کے کنگز کالج میں ہوئی تھی جہاں دونوں ریاضی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ | اسی بارے میں ’ دہشت گردی کا الزام‘16.11.2002 | صفحۂ اول دہشتگردتنظیم سےتعلق: چھ گرفتار15.12.2002 | صفحۂ اول تل ابیب: ’خودکش‘ دھماکہ30.04.2003 | صفحۂ اول ”دہشت گردی” کے لئے سزائے موت12.04.2002 | صفحۂ اول لندن:’دہشت گرد‘گرفتار07.01.2003 | صفحۂ اول برطانیہ:سات افرادگرفتار06.02.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||