BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 April, 2006, 03:34 GMT 08:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس، الفتح کے درمیان صلح
الفتح کے مسلح حامی غزہ کی سڑکوں پر اتر آئے
غزہ شہر میں حریف جماعتوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے، حماس اور الفتح مشترکہ طور پر اپنے اختلافات ختم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔

سنیچر کے روز حکمران جماعت حماس اور حزب اختلاف الفتح سے منسلک طالب علموں نے جھڑپوں کے درمیان گھریلو ساخت کے دھماکہ خیز مواد اور پتھر ایک دوسرے پر پھینکے۔

حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔

الفتح کے حامی اس بات پر ناراض تھے کہ حماس کے رہنما خالد میشال نے الفتح پر اس طرح کے الزامات عائد کرنے کی کوشش کی کہ اس نے حماس کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے اسرائیل سے ہاتھ ملا رکھا ہے۔

الفتح اور حماس کے نمائندوں نے سنیچر کے روز مذاکرات کے بعد کہا کہ انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آپس میں نہ لڑیں۔

جمعہ کو فلسطینی صدر اور الفتح کے رہنما محمود عباس نے حماس حکومت کے ایک منصوبے کو ویٹو کردیا جس کے تحت ایک نئی عسکری فوج بنانے کی بات کی گئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نئی فوج میں اپنے کارکنوں کو شامل کرنا چاہتی تھی۔

محمود عباس کے فیصلے پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے حماس کے رہنما خالد میشال نے کہا کہ حماس کی انتظامیہ کے خلاف ایک پلاٹ رچا جارہا ہے۔ خالد میشال کے بیان پر الفتح کے حامی غصے میں آگئے اور غرب اردن اور غزہ میں کئی مظاہرے کیے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک مصری سفارت کار حماس اور فتح کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشش کررہے ہیں اور ان کے درمیان مذاکرات منعقد کرانے میں کامیاب رہے۔

اسی بارے میں
گلیاں خالی کر دیں: حماس
01 April, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد