حماس، الفتح کے درمیان صلح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ شہر میں حریف جماعتوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے، حماس اور الفتح مشترکہ طور پر اپنے اختلافات ختم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز حکمران جماعت حماس اور حزب اختلاف الفتح سے منسلک طالب علموں نے جھڑپوں کے درمیان گھریلو ساخت کے دھماکہ خیز مواد اور پتھر ایک دوسرے پر پھینکے۔ حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔ الفتح کے حامی اس بات پر ناراض تھے کہ حماس کے رہنما خالد میشال نے الفتح پر اس طرح کے الزامات عائد کرنے کی کوشش کی کہ اس نے حماس کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے اسرائیل سے ہاتھ ملا رکھا ہے۔ الفتح اور حماس کے نمائندوں نے سنیچر کے روز مذاکرات کے بعد کہا کہ انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آپس میں نہ لڑیں۔ جمعہ کو فلسطینی صدر اور الفتح کے رہنما محمود عباس نے حماس حکومت کے ایک منصوبے کو ویٹو کردیا جس کے تحت ایک نئی عسکری فوج بنانے کی بات کی گئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نئی فوج میں اپنے کارکنوں کو شامل کرنا چاہتی تھی۔ محمود عباس کے فیصلے پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے حماس کے رہنما خالد میشال نے کہا کہ حماس کی انتظامیہ کے خلاف ایک پلاٹ رچا جارہا ہے۔ خالد میشال کے بیان پر الفتح کے حامی غصے میں آگئے اور غرب اردن اور غزہ میں کئی مظاہرے کیے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک مصری سفارت کار حماس اور فتح کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشش کررہے ہیں اور ان کے درمیان مذاکرات منعقد کرانے میں کامیاب رہے۔ | اسی بارے میں مذاکرات بڑی پیش رفت: حماس04 March, 2006 | آس پاس حماس کی حکومت میں نہیں: فتح18 March, 2006 | آس پاس حماس کا ایجنڈا پارلیمان کے سامنے27 March, 2006 | آس پاس گلیاں خالی کر دیں: حماس01 April, 2006 | آس پاس غزہ پولیس کا پرتشدد مظاہرہ15 April, 2006 | آس پاس ’فلسطین میں بحران پیدا ہونے کا خدشہ‘19 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||