BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 March, 2006, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی سرحد کا تعین ہوگا:اولمرت
 اسرائیل الیکشن
ووٹ ڈالنے کی شرح اسرائیل کی تاریخ میں سب سے کم رہی
اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں قائم مقام وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کامیابی حاصل کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیلی سرحد کے تعین کا عہد کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم ایریئل شیرون نے، جو اب کوما کی حالت میں ہیں، قدیمہ پارٹی محض چار ماہ پہلے قائم کی تھی۔ یہ جماعت انتخابات میں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے۔ایہود اولمرت کی قیادت میں پارٹی نے کچھ مقبوضہ علاقوں پر قائم یہودی بستیاں ختم کر کے اسرائیل کی سرحدوں کے تعین کرنے کے وعدے پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

’یکطرفہ منصوبے ترک کریں‘
 انتخابات کا یہ نتیجہ متوقع تھا، لیکن جناب اولمرت کو امن کے قیام کے لیے اس نقشہ راہ کی طرف لوٹنا ہوگا جسے عالمی حمایت حاصل ہے اور انہیں چاہیے کہ وہ اسرائیلی سرحد کے تعین کے یکطرفہ منصوبوں کر ترک کر دیں
محمود عباس

بائیں بازو کی لیبر پارٹی ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی جبکہ دائیں بازو کی لیکود پارٹی، جس نے پچھلے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، اب پانچویں نمبر پر چلی گئی ہے۔.

ایہود اولمرت نے کہا ہے اسرائیل کو اب فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات سے مستقل سرحدوں کا تعین کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ تاہم ساتھ ہی ان کا یہ دعوٰی بھی تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 2010 تک اسرائیل کی مستقل سرحد کے تعین کے لیئے یکطرفہ فیصلہ کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ واضح اکثریت حاصل نہ کرنے کے باعث انہیں حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں آخری لمحات میں لوگ سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اپیلوں کے باوجود ووٹ ڈالنے کی شرح اسرائیل کی انتخابی تاریخ میں بہت کم رہی اور صرف باسٹھ عشاریہ تین فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

اولمرت نے کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’اسرائیل کی سرحدوں کے تعین کے ساتھ اسرائیل ایک ایسی ریاست بن جائے گا جس میں یہودیوں کی اکثریت ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل مفاہمت کے لیے تیار ہے اور کچھ ایسے علاقے چھوڑنے کو تیار ہے جہاں اس کے بیٹے دفن ہیں تاکہ فلسطینی اپنی علیحدہ ریاست قائم کرکے امن سے رہ سکیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطین اسرائیل کو تسلیم کرلے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی براؤن کا کہنا ہے کہ اولمرت کو اپنے مشن کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کرنے پڑے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد