اسرائیل: ووٹ ڈالنے کا تناسب کم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات میں ابھی تک ڈالے جانے والے ووٹوں کا تناسب بہت کم رہا ہے۔ سات گھنٹے گزر جانے کے بعد تقریباً ایک تہائی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ صدر موشے کتساو نے ان انتخابات کو اسرائیل کی تاریخ کے بہت اہم انتخابات کہا ہے۔ ان انتخابات سے ملک کا سیاسی نقشہ یکسر تبدیل ہونے کی بھی توقع کی جارہی ہے۔ ان میں علیل وزیر اعظم ایرئیل شیرون کی سیاسی سوچ کی توثیق ہونے کی بھی توقع ہے۔ ایرئیل شیرون اس سال جنوری میں شدید علیل ہونے کے بعد کومے میں چلے گئے تھے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق وزیر اعظم ایرئیل شیرون کی قدیمہ پارٹی کے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے امکانات روشن ہیں۔ ان جائزوں کے مطابق قدیمہ پارٹی اس انتخابات میں دائیں بازو کی لیکود پارٹی اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی کی ملکی سیاست پر بلادستی کو ختم کردے گی۔ یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ قائم مقام وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کی قدیمہ پارٹی کو اسرائیل کی سرحدوں کا تعین کرنے کے ایرئیل شیرون کے پروگرام کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے ان انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنا ہو گی۔ اس پروگرام کےمطابق اسرائیل کو بعض علاقوں کو خالی کرنا ہے جب کہ بعض مقبوضہ علاقوں پر اپنا تسلط قائم رکھنا ہے۔ ایرئیل شیرون کی سابق لیکود پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران سخت گیر موقف برقرار رکھا ہے جب کہ قدیمہ پارٹی نے انتخابی مہم میں سماجی ترقی پر زور دیا ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیل کو خفیہ مذاکرات کی تجویز24 March, 2006 | آس پاس مذہبی تحریک کا زوال ہوگا:طارق علی25 March, 2006 | پاکستان اسرائیل: سرحد کے لیئے امریکی مشورہ 26 March, 2006 | آس پاس حماس کا ایجنڈا پارلیمان کے سامنے27 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||