BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 March, 2006, 22:16 GMT 03:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کو خفیہ مذاکرات کی تجویز
اسرائیل کو شبہہ ہے کہ آیا محمود عباس خفیہ مذاکرات کی سربراہی کر بھی سکتے ہیں یا نہیں
اسرائیل کے ایک بڑے اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی رہنما محمود عباس نے اسرائیل کو خفیہ مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے۔

اخبار کے مطابق محمود عباس نے امریکی اہلکاروں اور سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم شیمون پیریز کے ساتھ بات چیت میں یہ تجویز پیش کی کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو خفیہ مذاکرات کرنے چاہیئیں۔

انہوں نے اخبار کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر ایسے خفیہ مذاکرات شروع ہوگئے تو ایک سال کے اندر اندر امن کے معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔

محمود عباس نے کہا کہ ایسے مذاکرات پی ایل کے تحت ہونے چاہیئیں۔ محمود عباس پی ایل او کے سربراہ ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر ہیں۔

اس سال جنوری میں فلسطین میں ہونے والے انتخابات میں شدت پسند تنظیم حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی تھی اور اب وہ حکومت بنا رہی ہے۔

اسرائیل نے پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ کسی ایسی فلسطینی حکومت کے ساتھ معاملہ نہیں کرے گا جس کی سربراہی حماس کر رہی ہو۔ اسرائیل نے حماس کی کامیابی کے بعد خود محمود عباس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اب بے وقعت ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا ردِ عمل
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینی انتظامیہ میں اصل سیاسی طاقت اب محمود عباس اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں نہیں رہی بلکہ یہ حماس کو منتقل ہو چکی ہے

حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی تباہی ہونی چاہیئے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کا مستقل سرحدیں قائم کرنے کا کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ امن کا نقیب نہیں ہو سکتا۔

اسرائیل کی طرف سے فلسطینی رہنما کے بیان پر اس شک کا اظہار کیا گیا ہے کہ کیا وہ کسی قسم کے مذاکرات کی سربراہی کر بھی سکتے ہیں یا نہیں۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا ’فلسطینی انتظامیہ میں اصل سیاسی طاقت اب محمود عباس اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں نہیں رہی بلکہ یہ حماس کو منتقل ہو چکی ہے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امن کا کوئی بھی ایسا حل نہیں ہے جسے قابلِ ذکر قرار دیا جا سکے۔

اگرچہ امریکہ کے تجویز کردہ امن کے نقشۂ راہ کو فلسطینیوں اور اسرائیل کی توثیق مل چکی ہے لیکن عملی طور پر یہ منصوبہ کالعدم ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد