BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی تحریک کا زوال ہوگا:طارق علی
طارق علی
ایم ایم اے حکومت نے سماجی ترقی اور غریبوں کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا
عالمی سوشل فورم کے مقررین نے مذہبی تحریکوں کے زوال کی پیشنگوئی کی ہے جبکہ یہ بھی قرار دیا ہے کہ مسلمان جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ کچھ مقررین دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بھی سرد جنگ کا تسلسل سمجھتے ہیں۔

کراچی میں عالمی سوشل فورم میں سیاسی اسلام اور چیلنج، تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں سول سوسائٹی کا کردار اور بن لادن دہشتگردی کی نئی سیاست کے موضوعات پر مفکرین نے اپنے خیالات پیش کیے۔

نامور صحافی اور دانشور طارق علی نے پیشنگوئی کی کہ مذہبی تحریک کا زوال ہوگا کیونکہ ان کا نظریہ لوگوں کو ماضی کی طرف لے جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مذہبی تحریکوں کے زوال کا مرحلہ ہے۔ مذہبی تحریکوں کے زوال کی وجوہات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کے پاس کوئی بھی سماجی اور معاشی پروگرام نہیں ہے، صرف کلچرل پروگرام ہے۔

طارق علی کے مطابق امریکہ سعودی عرب اور مصر میں انتخابات نہیں چاہتا، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ وہاں مذہبی جماعتیں کامیاب ہوجائیں گی۔

فلسطین میں سیاسی تبدیلی کے بارے میں ان کی رائے تھی کہ حماس نے مذہبی ووٹ کی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ حماس نے پی ایل او کے اوسلو معاہدے اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔

عراق کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عراق میں مقتدیٰ الصدر کے حمایتی ان علاقوں میں بڑہ رہے ہیں جہاں غریب آبادی ہے وہ لوگ پہلے سیکولر گروہوں کی حمایت کرتے تھے۔

طالبان کے بارے میں طارق علی نے بتایا کہ طالبان اچھے حکمران نہیں تھے مگر امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کو ہٹائے۔

پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اثر کے بارے میں طارق علی کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے حکومت نے سماجی ترقی اور غریبوں کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے لوگوں کو ان کے مسائل میں الجھائے رکھا تو ان کے خلاف ایک لہر اٹھے گی۔

طارق علی نے بتایا کہ سامراج نے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا ہوا ہے۔ اس کی وجہ مسلم ممالک کے پاس توانائی کے وسائل کی موجودگی ہے اگر بدھ پرستوں اور سکھوں کے پاس تیل کے ذخائر ہوتے تو ان کے خلاف بھی یہ رویہ روا رکھا جاتا۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنے خلاف ہونے والے مظالم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔

کشمیری رہنما کا موقف تھا کہ مسلم ممالک میں جمہوریت تب ہی مضبوط ہوسکتی ہے جب منتخب حکومتوں کو ان کی مدت پوری کرنے دی جائے۔

ڈاکٹر صبا گل کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد صرف مقامی تعلقات تبدیل ہوئے ہیں جیسا کہ پاکستان کی جہادی عناصر کے بارے میں رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ گزشتہ انتخابات میں امریکی مخالف ووٹ کاسٹ ہوا، جبکہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی واشنگٹن کی طرف دیکھتی ہیں تاکہ وہ اقتدار میں آئیں تو ان کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہو۔

نامور سوشل ورکر اور سابق ضلع ناظمہ نفیسہ شاہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند فاٹا جیسے چھوٹے علاقے میں کیسے مرکز بنا سکتے ہیں حلانکہ نیٹو کی تمام افواج افغانستان اور سرحدی علاقے پر مامور ہے۔

نفسیہ کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ مذہبی جماعتیں نچلی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کی رائے تھی کہ ایم ایم اے آئندے انتخابات میں اتنی تعداد میں نشتستیں حاصل نہیں کرسکتی اگر اسٹیبلشمنٹ اس کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔

برطانیہ میں مزدور تحریک کے رہنما جیف براؤن کا کہنا تھا کہ برطانیہ سمیت جمہوری حکمران لوگوں کی خواہشات کے برعکس فیصلے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بھی حقیقی جمہوریت نہیں ہے کیونکہ وہاں بھی لوگوں کی خواہشات کے خلاف فیصلے کیئے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد