BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 March, 2006, 17:49 GMT 22:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی، ورلڈ سوشل فورم کا افتتاح

 ورلڈ سوشل فورم
ایک طرف ’دنیا کے مزدورو ایک ہوجاؤ‘ کے نعرے کے نعرے تو دوسری طرف ’گو بش گو‘ کا شور
کراچی میں جمعہ کی رات سے ’ایک نئی دنیا ممکن ہے‘ کے نعرے کے تحت ورلڈ سوشل فورم کی تقریبات کا آغاز ہوگیا ہے۔

جمع سے پیر تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں فلسطین، برطانیہ، کینیا، ملائشیا، نیپال اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک سے وفود شریک ہورہے ہیں۔
ورلڈ سوشل فورم کے منتظمین کے مطابق اٹھاون ممالک کے وفد پروگرام میں شریک ہوں گے۔


کراچی میونسپل اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں پاکستان کی مختلف سماجی تنظیموں نے اسٹال لگائے ہیں جہاں تیسری دنیا کی تحریکوں کے بارے میں کتابوں سے لے کر لوک لباس جیسی اشیاء بھی فروخت کے لئے دستیاب ہیں۔

تقریب میں میلے کا سا سماں ہے۔ اس تقریب میں ایک طرف ’دنیا کے مزدورو ایک ہوجاؤ‘ کے نعرے بلند ہو رہے تھے تو دوسری طرف ’امریکی سامراج نامنظور‘ اور ’گو بش گو‘ کے بھی نعرے لگائے جارہے تھے۔

فورم میں شریک کچھ وفود اپنے ساتھ ڈھولک، ڈفلی اور گٹار بھی لائے ہیں۔

بنگلہ دیش کے وفد نے اپنی زبان میں گیت گا کر لوگوں کی توجہ حاصل کی۔اسی طرح سندھ کے صوفی گلوکار بھی اپنے مخصوص لباس اور منفرد گائیکی کی وجہ سے نظروں کا مرکز ہیں۔

اس پروگرام کے لئے خصوصی نغمے بھی بنائے گئے ہیں۔ ولیم پرویز نے خصوصی طور پر ایک نظم ’ایک اور جہاں ممکن ہے‘ لکھی جسے نامور گلوکارہ نیرہ نور نے اپنے بیٹے کے ساتھ گایا ہے۔ اس طرح وقار احمد نے فیض احمد فیض کی نظم ’بول کے لب آزاد ہیں تیرے‘ گائی ہے۔

سوشل فورم
فورم میں شرکت کے لیئے دنیا بھر سے وفود کراچی پہنچے ہیں

فورم کی افتتاحی تقریب میں غنوٰی بھٹو، شیری رحمان، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی اور یاسین ملک جیسی نامور شخصیات بھی شریک تھیں۔

نامور ادیب اور نقاد طارق علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروگرام کی افادیت کے بارے میں بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے والے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ایک دوسرے سے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں جس سے شعور پیدا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فورم کے اختتام پر ہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے پاکستان اور دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک نئی دنیا بن رہی ہے، جب حالات بہت زیادہ خراب ہوتے ہیں تبھی نئی دنیا بنتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ پہلے سسکتے تھے اور چپ رہتے تھے آج وہ باقاعدہ بول رہے ہیں، آواز بلند کر رہے ہیں‘۔

پاکستان شھید بھٹو کی چیئرپرسن غنوٰی بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ایسے پروگرام اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔جس سے ہمارے عوام کو یہ احساس ہوگا کہ وہ عالمی عوامی تحریک کا حصہ ہیں‘۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے بی بی سی کو بتایا، ’میں یہاں کشمیر کا تنازع لے کر آیا ہوں اور جو باقی امور ہیں اور محکوم قومیں ہیں ان سے یجکہتی کرنے آیا ہوں‘۔

فلسطین سے آنے والے موسٰی کا کہنا تھا کہ ’میں اس فورم سے بہت متاثر ہوا ہوں کیونکہ جو لوگ یہاں آرہے ہیں وہ ایک تحریک ہیں جو دوسروں کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں‘۔

فلسطین کے شہر ہیبرون سے آنے والے وکیل فخری نے بتایا کہ ’اسرائیلی حکومت انہیں کسی فورم پر شرکت کی اجازت نہیں دیتی ۔ اس فورم میں آنے والے ہمارے پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جو ابھی تک زیر حراست ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’فلسطین پر آج بھی اسرائیل کا قبضہ ہے یہ دنیا کو دکھانے کے لئے انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو آزادی دی گئی ہے‘ ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما ممبر قومی اسمبلی شیری رحمان کا کہنا تھا، ’ایک نئی دنیا ممکن ہے اس کے لئے آپ خواب دیکھیں اور اپنے مقاصد کو مستحکم کریں تو دوسری دنیا کیا جتنی چاہئیں دنیا ممکن ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد