BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون: کراچی میں’ملین مارچ‘

ملین مارچ
ریلی میں بڑی تعداد میں اپوزیشن کارکنوں نے شرکت کی
مغربی ملکوں میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان میں احتجاج جاری ہے اور اتوار کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر ایک بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی جس کو ملین مارچ کا نام دیا گیا تھا۔

امریکہ مخالف نعروں اور نغموں کی گونج میں ریلی کا آغاز سہہ پہر تین بجے کے قریب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار سے ہوا اور ریلی کے قائدین نے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر ایک پل سے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔

اس ملین مارچ کا اعلان فروری میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے کیا تھا اور اپوزیشن کی جماعتوں پیپلز پارٹی ، نواز مسلم لیگ اور تحریک انصاف نے بھی اس مارچ میں شرکت کی۔

احتجاجی ریلی کے شرکاء مغربی ملکوں اور امریکہ کی مذمت میں بینر اور پوسٹر اٹھائے ہوئے نعرے لگا رہے تھے جبکہ بہت سے شرکاء علامتی کفن بھی پہنے ہوئے تھے۔ ریلی کے دوران کئی مقامات پر امریکہ، ڈنمارک اور ناروے وغیرہ کے پرچم بھی کئی مقامات پر پیروں تلے روندے گئے۔

جلوس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی

ریلی میں نہ صرف کراچی سے مجلس عمل کی مختلف جماعتوں اور دوسری تنظیموں کے مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی بلکہ صوبۂ سندھ کے دوسرے حصوں سے بھی کارکن اس مارچ میں شامل ہوئے۔

اپنے خطاب میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپنے عقائد کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کے پاس واحد راستہ باہمی اتحاد ہے۔انہوں نے وزیرستان میں فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کی حکومت یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی پاکستان کے لیے امریکہ سے کچھ بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ریلی سے مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کو بھی خطاب کرنا تھا مگر وہ لاہور میں اپنی نظربندی کے باعث شریک نہ ہو پائے اور ریلی میں صرف ان کا پیغام سنوایا گیا جس میں انہوں نے متنازعہ خاکوں کو’صیہونی سازش‘ قرار دیا۔

مجلسِ عمل اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے پرزور الفاظ میں ڈنمارک اور دیگر مغربی ملکوں کے اخبارات میں شائع ہونے والے پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

ایم ایم اے رہنماؤں نے ریلی سے خطاب کیا

مقررین نے پاکستانی حکومت پر بھی سخت ترین تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران نہ صرف مغرب کے اور امریکی آلۂ کار بنے ہوئے ہیں بلکہ امریکیوں کی خوشنودی کے لیئے بےگناہ پاکستانیوں کے خون سے بھی ہولی کھیل رہے ہیں۔

ریلی میں امریکی صدر بش کے دورۂ جنوبی ایشیا اور پاکستان پر بھی کڑی تنقید کی گئی اور پاکستان کے مفادات کی حفاظت میں ناکامی پر جنرل مشرف کی فوجی حکومت پر بھی نکتہ چینی کی گئی۔

جمعیت العلمائے اسلام کے رکن قومی اسمبلی حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کو کارگل میں عسکری شکست ہوئی تھی اور صدر بش کے دورۂ جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے درمیان روا رکھے گئے سلوک سے ان کو سیاسی کارگل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ریلی سے قبل صبح سے ہی ریلی کی گزرگاہ ایم اے جناح روڈ پر خصوصاً اور شہر کے دوسرے علاقوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور بڑی تعداد میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار موجود تھے۔

ہفتے وار تعطیل ہونے کے باعث شہر کے اہم کاروباری مرکز صدر ، ریگل چوک اور اردگرد میں کاروبار بند تھا جبکہ ریلی کے راستے کے تمام پٹرول پمپوں کو بھی شامیانے لگاکر بند کیا گیا تھا۔ سنیما گھروں پر آویزواں فلمی پوسٹر ہٹا دیئے گئے تھے جب کہ چھتوں پر پولیس اہلکار موجود تھے۔

اسی بارے میں
قاضی حسین احمد پھر نظر بند
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد