BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 March, 2006, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون احتجاج: ہڑتال، ٹرانسپورٹ بند

 ہڑتال
ملک کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سے بھی ہڑتال کی اطلاعات ہیں
یورپی ذرائع ابلاغ میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے لیے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر جمعہ کو پاکستان بھر میں مکمل ہڑتال ہوئی اور کئی بڑے بڑے شہروں میں مظاہروں کے درمیان گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔


ملک کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر ہونے والی اسی ہڑتال میں تمام بڑئے اور چھوٹے کاروباری مراکز، دکانیں، نجی تجاراتی ادارے اور دفاتر، تعلیمی ادارے اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہیں۔
کراچی میں صبح سے کاروبار ،پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں

حزب اختلاف کے مطابق سب سے زیادہ گرفتاریاں کراچی میں ہوئیں جہاں 300 کے قریب مظاہرین کو حراست میں لیے لیا گیا۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں بھی چھبیس مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

ملتان میں جمعہ کے روز ہونے والا احتجاجی مظاہرہ ایم ایم اے کے مرکزی قائدین کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان میں اس روز پیغمبر اسلام کے خاکوں کے خلاف ہونے والے تمام مظاہروں میں سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔

لاہور میں صبح سے تمام بازار اور دکانیں بند رہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلی۔ جبکہ سڑکوں پر بہت کم تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی نظر آرہی ہیں۔ شہر سے دوسرے شہروں کو جانے والی ویگنیں اور بسیں بھی بند ہیں۔

شہر کے نجی اور سرکاری اسکولوں نے بچوں کو جمعہ کو چھٹی کرنے کے لیے کہا تھا جبکہ سرکاری دفتروں میں بھی حاظری کم رہی اور جو لوگ کام کے لیے آئے ان میں سے بیشتر بھی وقت سے پہلے واپس چلے گئے۔

سڑکوں پر بہت کم تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی نظر آرہی ہیں

جمعہ کی صبح سے پنجاب پولیس نے جی ٹی روڈ بند کر کے پشاور سے اسلام آباد جانے والے راستے کو ٹرانسپورٹ کے لیے بند کیا ہوا تھا۔

کراچی میں صبح سے کاروبار ، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ ٹرانسپورٹرز کی حمایت کی وجہ سے سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل غائب رہی جبکہ رکشہ اور ٹیکسیاں چلتی رہیں۔

شہر کے تمام نجی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی حاضری کم رہی۔
سپر ہائی وے پر واقع سبزی منڈی کے تاجروں نے بھی ہڑتال میں شمولیت کا اعلان کیاتھا۔

کراچی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کئی جگہوں پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق کراچی میں تین سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ شہر راولپنڈی میں بھی ہڑتال کی گئی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے اور نجی دفاتر بند ہیں جبکہ زیادہ تر بازار بھی بند رہے۔ دونوں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسلام آباد میں امریکی صدر بش کی متوقع آمد کے پیش نظر پہلے ہی سکیورٹی کے انتظامات نہایت سخت ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں جمعہ کے روز ویسے ہی زیادہ تر بازار بند ہوتے ہیں۔ حزب اختلاف نے اس ہڑتال کے موقع پر مظاہروں کی بھی کال دی تھی مگر اسلام آباد اور راولپنڈی میں ابھی تک کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔

حزب اختلاف کی اپیل پر ہونے والی اس ہڑتال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی کاروبار اور دفاتر بند رہے۔پاکستان کے زیر انتظم کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کاروبار اور دکانیں بند رہیں۔

’نقصان اپنا ہی ہوا‘
کاروباری طبقہ پرامن مظاہروں کا خواہشمند
طالب علمکارٹون احتجاج
ایم ایم اے احتجاج کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد