’احتجاج کے حامی ہیں مگر پرامن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ٹرانسپورٹرز نے پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف متحدہ مجلس عمل کی کال پر جمعہ کے روز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں آل پاکستان یونائٹیڈ ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی احسان اللہ نے اعلان کیا کہ وہ صوبے کی حد تک اس ہڑتال میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متحدہ مجلس عمل واقعی اس بات پر قربانی دینے کے لئے مخلص ہے تو وہ سرحد اور بلوچستان میں حکومتوں سے مستعفی ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار اور احتجاج ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ بین الصوبائی اور لوکل روٹس پر رواں دواں رکھیں گے۔ حاجی احسان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے وہ حامی ہیں لیکن پرامن احتجاج کے۔ ادھر صوبہ سرحد میں مسلم لیگ (ق) کے صوبائی سربراہ امیر مقام خان نے بھی ہڑتال کی کال کی ایک اخباری کانفرنس میں مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایم ایم اے کا ایجنڈا کارٹون نہیں بلکہ موجودہ حکومت کو ہٹانا ہے۔ متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس نے تین مارچ کی پہہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے دس رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ٹرانسپورٹروں اور تاجروں سے اس میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات کرے گی۔ اس بات کا اعلان ایم ایم اے کے پشاور کے رہنما حکیم عبدالوحید نے ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ ان کے ساتھ اس موقعہ پر عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رہنما بھی موجود تھے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ ہڑتال پرامن ہوگی۔ | اسی بارے میں ’پرویز مشرف ریفرنڈم کرائیں‘01 March, 2006 | پاکستان سندھ ہڑتال: کراچی میں جزوی ردِعمل20 December, 2005 | پاکستان باجوڑ: ایم کیو ایم بھی ہڑتال کرے گی15 January, 2006 | پاکستان پونچھ میں جماعت اسلامی کی ہڑتال22 February, 2006 | پاکستان اپوزیشن تین مارچ کو ہڑتال کرے گی27 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||