BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کارٹون: سکول کے طلباء کا احتجاج

مظاہرہ
مظاہرہ نیشنل سٹیڈیم سے لیکر حسن اسکوائر تک کیا گیا(فائل فوٹو)
پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف پاکستان میں مستقل احتجاج جاری ہے جس کے دوران زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق افراد نے اپنے اپنے طور اس کی مذمت کی ہے۔

تاہم پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس احتجاج کی کچھ منفرد صورتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ چند روز پہلے کراچی کے ہی ساحل پر ماہی گیروں نے اپنی اپنی کشتیوں میں مشعلوں کے ساتھ ان خاکوں اور ان کے بنانے اور شائع کرنے والوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

منگل کو اس احتجاج کی ایک اور صورت سکولوں کے بچوں کے احتجاجی مظاہرے کی شکل میں سامنے آئی جو نیشنل اسٹیڈیم سے لیکر حسن اسکوائر کے چوراہے تک کیا گیا۔

مذہبی جماعتیں اس سے قبل بھی احتجاجی جلوس نکالتی رہی ہیں

اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام متحدہ مجلس عمل کے تحت کیا گیا تھا اور اس میں اسکولوں اور دینی مدارس کے بچوں اور بچیوں اور ان کے والدین کی خاصی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مجلس عمل کے سینیٹر اور جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے حکومت پر سخت تنقید کی کہ وہ مغرب کی چاپلوسی اور امریکی دباؤ میں تعلیم کے شعبے سے اسلام اور اس کی تعلیمات کو خارج کر دینے کے درپے ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ منگل کے مظاہرے نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کردی ہے کہ حکمران اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوگئے ہیں اور نئی نسل کے دلوں میں بھی دین اور دین کے لانے والے کا عشق پوری طرح زندہ ہے۔

مظاہرے کے شرکاء سے خطاب میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر ڈاکٹر معراج الہدٰی صدیقی نے کہا کہ ایک طرف تو کارٹون شائع کرنے والا ڈنمارک کا اخبار اور حکومت معافی مانگ رہی ہے دوسری طرف ان کارٹونوں کو میوزیم میں رکھنے کے اعلان اور انعامات وصول کیے جا رہے ہیں۔

ان کے دریافت کرنے پر شرکاء نے ڈنمارک کی ٹافیاں اور چاکلیٹ بھی نہ کھانے کا اعلان کیا۔ مظاہرے کے شرکاء ڈنمارک اور امریکہ کی مذمت میں بینر اور پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے اور مغربی ملکوں کے پرچم اپنے پیروں میں روند رہے تھے۔

شدید گرمی کے باعث منتظمین نے سکولوں کے بچوں پر پانی کے چھڑکاؤ کا بھی انتظام کیا تھا۔ بعد میں شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد