BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 March, 2006, 23:57 GMT 04:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمرت: انتخابی کامیابی کا دعویٰ
 اسرائیل الیکشن
ووٹ ڈالنے کی شرح اسرائیل کی تاریخ میں سب سے کم رہی
اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں جنہیں غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں پر ریفرنڈم قرار دیا جا رہا تھا، قائم مقام وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کامیابی حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔

ایرئیل شیرون کی عدم موجودگی میں پارٹی کی قیادت کرنے والے ایہو اولمرت نے انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کرنے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے کا وقت آ گیا ہے جس میں اسرائیلیوں کے درمیان تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ باہمی عزت اورامن کو قائم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اختلافات بھلا کر اسرائیلی ایک مرتبہ پھر ایک متحدہ قوم بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا اسرائیل کو اب فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات سے مستقل سرحدوں کا تعین کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قیام امن مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل مفاہمت کے لیے تیار ہے اور کچھ ایسے علاقے چھوڑنے کو تیار ہے جہاں اس کے بیٹے دفن ہیں تاکہ فلسطینی اپنی علیحدہ ریاست قائم کرکے امن سے رہ سکیں۔

دریں اثناء انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے ایہود اولمرت کی قیادت میں قدیمہ پارٹی انتخابات میں معمولی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ایہو اولمرت کی جماعت نے کچھ مقبوضہ علاقوں پر قائم یہودی بستیاں ختم کرکے اسرائیل کی سرحدوں کے تعین کرنے کے وعدے پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

اسی لیے ان انتخابات کو غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں پر ریفرنڈم قرار دیا جا رہا تھا۔

منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں آخری لمحات میں لوگ سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اپیلوں کے باوجود ووٹ ڈالنے کی شرح اسرائیل کی انتخابی تاریخ میں بہت کم رہی اور صرف باسٹھ عشاریہ تین فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

انتخابی حکام کے مطابق سن دو ہزار تین میں ہونے والے انتخابات کی بنسبت ان انتخابات میں پانچ فیصد کم لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

بائیں بازو کی لیبر پارٹی ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ دائیں بازو کی لیکود پارٹی چوتھے نمبر پر چلی گئی ہے۔

ان انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے لیکود پارٹی کے رہنما بینجمن نیتھن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی جماعت کو ایک شدید انتخابی دھچکہ لگا ہے۔

ایک جائزے کے مطابق قدیمہ پارٹی کو انتیس سیٹیں ملی ہیں جو کہ پارٹی کے رہنماوں کی توقعات سے کم ہیں۔ انتخابات سے پہلے پارٹی رہنماؤں نے کہا تھا پینتیس سے کم سیٹیں ملانا ان کے لیے مایوس کن ہو گا۔ ان جائزوں کے مطابق ایک سو بیس سیٹوں پر مشتمل اسرائیل پارلیمنٹ کنیسٹ میں بارہ سیٹیں لیبر کو اور گیارہ لیکود کو حاصل ہو رہی ہیں۔

ان جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت جو فلسطینی اور عرب بستیوں کو زبردستی اسرائیل میں شامل کرنے کی حامی ہے انتخابات میں چودہ سیٹیں حاصل کر رہی ہے اور اس طرح یہ سخت گیر جماعت آئیندہ کنیسٹ میں تیسری بڑی قوت بن کر سامنے آ رہی ہے۔

اسرائیل میں پچاس لاکھ رجسٹرڈ ووٹ ہیں جو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کنیسٹ کی ایک سو بیس سیٹوں کے لیے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔

بوونشیرون کے تضادات
الیکشن میں شیرون کے تضادات کا امتحان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد