شیرون کے سیاسی تضادات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی انتخابی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی انتخابی مہم تھی۔ کچھ اسرائیلیوں نے اسے ’بورنگ‘ یا غیر دلچسپ قرار دیا۔ ایک ایسے انتخاب کہ بارے میں یہ رائے بہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ جس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت متوقع طور پراسرائیل ریاست کی سرحدوں کا تعین کرے گی۔ ان انتخابات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں موت اور زندگی کے معاملات سیاست کا اہم جز ہیں۔ ان انتخابات میں قائم مقام وزیراعظم ایہود اولمرت کو برتری حاصل ہے۔ وہ ایک انتہائی شاطر پیشہ ور سیاست دان ہیں لیکن وہ ایک مغرور شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ شایدیہ ہی وجہ ہے کہ انہیں اسرائیل کابینہ میں وہ حیثیت حاصل نہیں ہے جو ایرئیل شیرون کو حاصل تھی۔ ایہود اولمرت اپنے قد سے زیادہ اونچے دکھائی دینا نہیں چاہتے۔ بہت سے اسرائیلوں کو ایرئیل شیرون پر اعمتاد تھا اور وہ ان کو اپنے مستقبل میں فیصلہ کرنے کا حق دینے کےلیے تیار تھے لیکن وہ اس سال جنوری سے مسلسل بے ہوشی میں ہیں۔ اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں ان کی جیت یقینی تھی۔ جب وہ علیل ہوئے تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا ان کی قائم کردہ قدیمہ پارٹی بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی۔ لیکن قدیمہ پارٹی اپنے تمام سیاسی حریفوں سے عوامی رائے عامہ کے جائزوں میں آگے نظر آتی ہے۔ تاہم جو ووٹر ابھی تک گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا اور وہ قابل ذکر تعداد میں ہیں۔ اگر عوامی رائے عامہ کے جائزوں کو درست تصور کر لیا جائے تو قدیمہ پارٹی کی برتری کی کچھ وجوہات نظر آتی ہیں۔ شیرون نے لوگوں کے احساسات کو جان لیا تھا۔ گو شیرون اب جسمانی طورپر پارٹی کی قیادت کرنے کے لیے موجود نہیں لیکن قدیمہ پارٹی ان کی سیاسی سوچ پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی ہے اور شاید اسی لیے قدیمہ پارٹی رائے عامہ کے جائزوں میں باقی حریف جماعتوں سے آگے نظر آتی ہے ۔ قدیمہ کوعوامی حمایت حاصل ہونے کی وجہ شاید یہ ہے کہ لوگ ان سے وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔ لیکن اسرائیلوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ایرئیل شیرون کی سیاسی سوچ میں پایا جانے والا تضاد ہے۔ شیرون کا کہنا تھا کہ کچھ یہودی بستیاں اسرائیل پر بوجھ ہیں اور ان کو خالی کردینا ہی ٹھیک ہوگا۔ ایرئیل شیرون نےگزشتہ سال اگست میں اس کا عملی ثبوت بھی دیا اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کا انخلاء کرایا۔ ایرئیل شیرون کی اس سوچ کو پذیرائی حاصل ہوئی اور لوگ اسی اصول پر قدیمہ پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایرئیل شیرون کی وہ سوچ ہے جو انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے آغاز پر اپنائی تھی اور وہ تھی متنازع علاقوں میں یہودی آبادیوں کی تعمیر۔ ایرئیل شیرون کی پوری زندگی پر پہلے ایک فوجی کی حیثیت سے پھر سیاسی رہمنا کی حیثیت سے ایک ہی فکر غالب رہی اور وہ تھی اسرائیل کو محفوظ بنانے کی کوشش۔ اس فکر میں کوئی کمی نہیں آئی حتی کہ ان کی صحت ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔ لیکن اس ساری کوشش میں جس چیز میں تبدیلی آئی وہ تھی طریقہ کار کی جس نے ایرئیل شیرون کی سوچ کو پیچیدہ کر دیا۔ اور یہی تضاد سیاسی حلقوں میں سنجیدہ بحث کا باعث بن رہا ہے۔ اپنی پوری سیاسی زندگی میں شیرون اس اصول پر کار فرما رہے کہ مقبوضہ علاقوں پر یہودیوں کو آباد کر کے اسرائیل کو مضبوط، مستحکم اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے لیے صیہونی نظریہ بالکل کامل تھا لیکن گزشتہ چند سالوں سے ان کی سوچ میں بتدریج تبدیلی آنے لگی وہ اکثر کہتے تھے کہ وزیراعظم کی کرسی سے چیزیں مختلف نظر آتی ہیں۔ جب انہیں عنانِ اقتدار ملی تو انہیں فلسطینوں کی پرتشدد تحریک سے نبٹنا پڑا۔ وہ اسرائیل کے دشمن فلسطینوں کو ختم کرنے پر لگ گئے لیکن ساتھ ہی انھیں یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ان سے چھٹکار حاصل نہیں کر سکتے۔ مسلح فلسطینی ان کے لیے کبھی بھی پریشانی باعث نہیں رہے لیکن گود میں ننھے بچوں کو اٹھائے فلسطینی مائیں کہیں زیادہ تشویشناک تھیں۔ اسرائیلی اسے ایک آبادی کا مسئلہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہے کہ ان کے ہاں فلسطینیوں کی نسبت کم بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اسرائیلوں کا خواب تھا کہ وہ دریائے اردن اور بحریۂ احمر کے درمیان سارے علاقے پر قابض ہو جائیں۔ غرب اردن میں رہنے والے فلسطینی جو انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد وہیں رہے رشتے کے بھائیوں کی طرح وہیں رہیں گے اور جو ایک اقلیت کی طرح ایک دن ووٹ اور پاسپورٹ کے حق دار بھی ٹھہریں گے۔ لیکن بہت جلد شیرون اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو احساس ہونے لگا کہ ان کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ ان کو احساس ہو گیا کہ فلسطینوں کی شرح آبادی بہت زیادہ ہے اور بہت جلد وہ دریائے اردن اور بحیرہ احمر کے درمیان اکثریت میں ہوں گے۔ اس صورت حال کا مطلب یہ ہوا کہ مستقبل میں اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں عرب یہودیوں پر اکثریت حاصل کر لیں گے۔ تو اس خیال کے پیش نظر ایک نئی سوچ نے جنم لیا کہ کچھ آبادیوں کو چھوڑ دیا جائے اور ان علاقوں تک اسرائیل کو محدود کرکے محفوظ کر لیا جائے جہاں یہودیوں کی اکثریت ہے۔ اس خیال پر یک طرفہ طور پر ہی عمل کرلیا جائے اور اس عمل میں فلسطینیوں سے بالکل مذاکرات نہ کیے جائیں کیونکہ مذاکرات کا عمل بہت دشوار اور طویل ہوتا ہے۔ منگل کو اسرائیلیوں کو اس حکمت عملی کو منظور کرنے کا ایک موقع ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ یہ بتا سکتے کہ وہ کونسی آبادیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور کن علاقوں کو اسرائیل کی مستقل سرحدوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں وہ علیل ہو گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کچھ آبادیوں کو خالی کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو کیا ان کے مکین ان کو آسانی سے خالی کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ شیرون جہنوں نے ان آبادیوں کو تعمیر کیا تھا وہ ہی ان کو ختم کرنے کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہو سکتے تھے۔ کیا ان کے جانشیں ایسا کر پائیں گے یا وہ آباد کاروں کے ہاتھوں شکست کا شکار ہو جائیں گے؟ اور فلسطینی ایہود اولمرات کے اسرائیل ریاست کی سرحدوں کے تعین کو کس طرح لیں گے۔ ایہود آلمراٹ کا منصوبہ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ یہ فلسطینیوں کی زندگیوں پر بہت دور رس اور بنیادی نوعیت کے اثرات مرتب کرے گا اور اس ضمن میں ان سے پوچھا تک نہیں جائے گا۔ ان کا یہ یقین کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ فلسطینی ان کے ساتھ مفاہمت کے بجائے ان کے آگے جھک جائیں حالیہ فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح کی ایک بڑی وجہ یہی تھی۔ اور اگر فلسطینیوں کا یہ یقین تقویت پاتا ہے کہ اسرائیل ان کی قیمت پر اپنا مستقبل محفوظ بنانا چاہتا ہے اور اس طرح ان کے آزاد ریاست قائم کرنے کا امکان بالکل ختم ہو جائے گا تو پھر علاقے میں تشدد مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||