BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 02:19 GMT 07:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرقِ وسطیٰ امن اور ایران پر گفتگو
گزشتہ روز اولمرت نے محمود عباس کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے واشنگٹن میں وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل اور ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات بات چیت کا اہم موضوع ہیں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا محور اسرائیل کا غربِ اردن کے کچھ علاقوں سے یکطرفہ طور پر الگ ہو جانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ بات چیت میں غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور ایران کا جوہری پروگرام خاص طور پر زیرِ بحث آئیں گے۔

ایہود اولمرت منگل کو امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کریں گے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ امریکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے منصوبے کی مکمل حمایت کرے گا کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اس مسئلے کو بھر پور بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے۔

فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی باڑ سے سرحدوں کا نیا تعین کیا جا رہا ہے

ایران کے موضوع پر توقع ہے کہ دونوں رہنماؤں کے بیچ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ وہ ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے۔

گزشتہ روزاسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے اپنے امریکہ کے دورے سے قبل امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں فلسطینی رہنما محمود عباس کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا۔

اولمرت کا کہنا تھا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ آیا محمود عباس مذاکرات کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔

نامہ نگار کہتے ہیں اسرائیلی وزیرِ اعظم اپنے دورۂ امریکہ میں صدر جارج بش کی انتظامیہ سے اپنے اس منصوبے کے لیئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسرائیل اپنی مستقل سرحدوں کا تعین فلسطینیوں سے بات چیت کیئے بغیر خود ہی کر لے۔

محمود عباس نے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر الفتح تنظیم کی بنیاد رکھی تھی

اتوار کو فلسطینی رہنما محمود عباس نے مصر میں دو اسرائیلی وزیروں سے ملاقات کی تھی اور معطل شدہ امن کی بات چیت کو بحال کرنے پر زور دیا تھا۔

محمود عباس کے سینئر مذاکرات کار صائب ارکات کے مطابق فلسطینی علاقوں میں افراتفری اور خرابی کی صورتِ حال اس لیئے ہے کہ وہاں امن قائم نہیں کیا جا سکا۔ لہذا بد امنی کو افراتفری کا سبب ٹھہرانا ان کے بقول درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس ہی فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور انہیں امن مذاکرات پر اختیار حاصل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد