مشرقِ وسطیٰ امن اور ایران پر گفتگو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے واشنگٹن میں وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل اور ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات بات چیت کا اہم موضوع ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا محور اسرائیل کا غربِ اردن کے کچھ علاقوں سے یکطرفہ طور پر الگ ہو جانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ بات چیت میں غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور ایران کا جوہری پروگرام خاص طور پر زیرِ بحث آئیں گے۔ ایہود اولمرت منگل کو امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کریں گے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان نہیں ہے کہ امریکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے منصوبے کی مکمل حمایت کرے گا کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اس مسئلے کو بھر پور بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے۔
ایران کے موضوع پر توقع ہے کہ دونوں رہنماؤں کے بیچ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ وہ ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے۔ گزشتہ روزاسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے اپنے امریکہ کے دورے سے قبل امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو میں فلسطینی رہنما محمود عباس کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا۔ اولمرت کا کہنا تھا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ آیا محمود عباس مذاکرات کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ نامہ نگار کہتے ہیں اسرائیلی وزیرِ اعظم اپنے دورۂ امریکہ میں صدر جارج بش کی انتظامیہ سے اپنے اس منصوبے کے لیئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسرائیل اپنی مستقل سرحدوں کا تعین فلسطینیوں سے بات چیت کیئے بغیر خود ہی کر لے۔
اتوار کو فلسطینی رہنما محمود عباس نے مصر میں دو اسرائیلی وزیروں سے ملاقات کی تھی اور معطل شدہ امن کی بات چیت کو بحال کرنے پر زور دیا تھا۔ محمود عباس کے سینئر مذاکرات کار صائب ارکات کے مطابق فلسطینی علاقوں میں افراتفری اور خرابی کی صورتِ حال اس لیئے ہے کہ وہاں امن قائم نہیں کیا جا سکا۔ لہذا بد امنی کو افراتفری کا سبب ٹھہرانا ان کے بقول درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس ہی فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور انہیں امن مذاکرات پر اختیار حاصل ہے۔ | اسی بارے میں مرضی کی سرحد بنائیں گے:اولمرت04 May, 2006 | آس پاس ایہود اولمرت: ایریئل شیرون کے ’جانشین‘05 January, 2006 | آس پاس اسرائیلی سرحد کا تعین ہوگا:اولمرت29 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: سرحد کے لیئے امریکی مشورہ 26 March, 2006 | آس پاس ’سعدات کے خلاف قتل کا مقدمہ نہیں‘27 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||