BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 May, 2006, 01:29 GMT 06:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینیوں سے بات کریں: بش
صدر بش سے ملاقات کے بعد فلسطینی رہنما محمود عباس کے لیئے ایہود اولمرت کے لہجے میں مصالحت کی جھلک زیادہ تھی
امریکی صدر جارج بش اور اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے اسرائیل کی حتمی سرحدوں کے تعین کے حوالے سے ایک دوسرے کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد صدر بش نے امید ظاہر کی فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان امن کا معاہدہ طے ہو سکتا ہے۔

ایہود اولمرت نے کہا کہ اسرائیل یکطرفہ طور پر حتمی سرحدوں کا فیصلہ کرنے سے قبل تمام دو طرفہ بدل آزمائے گا۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ حماس سے اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک وہ تشدد کو ترک نہیں کرتی۔

امریکہ کے صدر جارج بش نے اسرائیلی وزیرِ اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیئے فلسطین سے براہِ راست مذاکرات شروع کریں۔

ایہود اولمرت نے پھر کہا ہے کہ حماس سے اس وقت تک بات نہ ہوگی جبتک وہ تشدد کو ترک نہیں کرتی

صدر بش نے یہ بات منگل کو امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کے بعد کہی۔ ایہود اولمرت گزشتہ روز واشنگٹن میں وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کی تھی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل اور ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات بات چیت کا اہم موضوع رہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایہود اولمرت نے امریکہ کے اپنے پہلے دورے میں صدر جارج بش سے جو بات چیت کی ہے اس کا محور فلسطین اور اسرائیلی تنازع رہا۔
بظاہر اس ملاقات کو صدر بش نے امن کوششوں کو بچانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

صدر بش نے اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن کے کچھ حصے خالی کرنے کے منصوبے کو جرآت مندانہ تو کہا لیکن اس کی کھل کر توثیق نہ کی جس سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ امریکہ یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کے حق میں نہیں ہے۔

امن کوششیں بچانے والی ملاقات
نامہ نگار کہتے ہیں کہ ایہود اولمرت نے امریکہ کے اپنے پہلے دورے میں صدر جارج بش سے جو بات چیت کی ہے اس کا محور فلسطین اور اسرائیلی تنازع رہا۔بظاہر اس ملاقات کو صدر بش نے امن کوششوں کو بچانے کے لیے استعمال کیا ہے

صدر بش نے یہ بھی کہا اس تنازعے کا حتمی حل دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہی نکلے گا اور کسی بھی فریق کو دوسرے پرسمجھوتہ تھوپنا نہیں چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے حماس کی فلسطینی حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور تشدد کو ترک نہ کرنے کی مذمت کی۔ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس پر بے بس اور کمزور ہونے کے حوالے سے تنقید کی تھی۔ لیکن اس ملاقات کے بعد ان کا لہجہ زیادہ مصالحانہ تھا۔

انہوں نے محمود عباس کو مخلص قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اسرائیل حتمی سمجھوتے کے لیے ہمیشہ فلسطینیوں کا انتظار نہیں کرے گا۔ لیکن یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کی کھلی امریکی توثیق نہ ہونے سے یہ بات ابھی تک جواب طلب ہے کہ امریکی اس معاملے پر کس حد تک ایہود اولمرت کی حمایت کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد