BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 July, 2006, 23:46 GMT 04:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘
 بیروت میں بمباری
تین دن کے تشدد میں ساٹھ لبنانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں
حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک ’کھلی جنگ‘ کا عہد کیا ہے۔

حزب اللہ کے رہنما کا یہ بیان بیروت میں ان کے صدر دفتر پر بمباری کے فوراً بعد ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حسن نصراللہ کے صدر دفتر پر حملہ انہیں ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ تاہم حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق وہ اس حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بیان کب ریکارڈ کروایا گیا ہے۔


حسن نصراللہ کا یہ بیان حزب اللہ کے ٹی وی سٹیشن المنار سے جاری کیا گیا۔ بیان میں انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم کھلی جنگ چاہتے تھے تو ہم اس طرف جا رہے ہیں اور ہم اس کے لیئے تیار ہیں۔ اس کے لیئے تیار ہیں۔ سب محاذوں پر جنگ، حیفہ تک، اور میرا یقین کرو، حیفہ سے آگے اور بہت آگے تک‘۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’صرف ہمارے گھر ہی تباہ نہیں ہوں گے، اور صرف ہمارے بچے ہی نہیں ہلاک ہوں گے‘۔

شیخ حسن نصراللہ
حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ لڑائی اسرائیل کے اندر تک جائے گی

دریں اثناء اسرائیلی فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ کے ایک میزائل حملے سے ان کی ایک بحری کشتی کو نقصان پہنچا ہے اور اس پر موجود چار فوجی غائب ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حزب اللہ نے سمندر میں موجود کشتی کو نشانہ بنانے کے لیئے اس قسم کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔

حزب اللہ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ ’اس جنگی کشتی کو دیکھو جس نے بیروت پر حملہ کیا تھا، جو اب جل رہی ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے ڈوب رہی ہے‘۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کشتی میں کوئی جانی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں۔

اسرائیلی کی اندھا دھند بمباری اور حزب اللہ کے رہنما کے بیان کے بعد لگتا ہے کہ اب یہ بحران مزید بڑھے گا۔

دوسری طرف اسرائیل نے بین الاقوامی برادری کی اپیلوں کے باوجود لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور سٹریٹیجک ٹارگٹس پر شدید گولہ باری جاری رکھی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ بمباری اس وقت ہی ختم ہو گی جب حزب اللہ کو مکمل غیر مسلح کیا جائے گا اور قبضے میں کیئے گئے فوجی واپس آئیں گے۔

لبنان میں تباہی
اسرائیل نے حزب اللہ کے خاتمے تک بمباری کا عزم کیا ہے

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے لبنان پر حملوں کے تیسرے دن دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کی۔ اس علاقے کو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے جمعہ کو حزب اللہ کے اٹھارہ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

جمعہ کے روز اسرائیلی طیاروں نے بیروت کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے کے رن وے پر تیسری بار بمباری کی اور بیروت سے شام کے شہر دمِشق جانے والے شاہراہ اور اس سے منسلک متعدد سڑکوں پر بھی بم گرائے۔ ایک بجلی گھر پر بھی بمباری کی گئی۔

اسرائیلی بمباری میں اب تک لبنان میں کم از کم ساٹھ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ حزب اللہ کی طرف سے پھینکے گئے راکٹوں سے چار اسرائیلی شہری ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

جمعہ کی شب اسرائیل کے ایک سرحدی شہر میرون میں حزب اللہ کی طرف سے پھینکا ہوا ایک راکٹ ایک گھر پر گرا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک دادی اور اس کا پانچ سالہ پوتا شامل ہے۔ تین دوسرے شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اب کہہ رہا ہے کہ اس کا فوجی آپریشن قبضے میں کیئے گئے فوجیوں کی رہائی نہیں ہے بلکہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ ہے۔

اسرائیل نے لبنان پر حملے اس وقت شروع کیے جب لبنان میں موجود تنظیم حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجی اپنے قبضے میں کر لیئے۔

تازہ لڑائی پر عالمی برادری کی جانب سے دونوں فریقوں سے احتیاط برتنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لبنان نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ آپریشن بند کر دے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی تازہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم المرت نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ قبضے میں کیئے گئے فوجی واپس کر دے اور راکٹ حملے بند کر دے اور لبنان سلامتی کونسل کی قرار داد 1559 پر عمل درآمد کرے تو وہ فائر بندی کے لیئے راضی ہو جائیں گے۔

دوسری طرف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ فوجی اس وقت تک رہا نہیں کیئے جائیں گے جب تک فلسطینی، لبنانی اور اسرائیل کی جیلوں میں موجود دوسرے عرب قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

لبنان پر اسرائیلی بمباری بدھ کے روز شروع ہوئی تھی
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
جلعاد شیلاطاسرائیل کی مشکل
فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا
حماس’حماس کی ہاں‘
’فلسطین اسرائیل منصوبہ‘ رائے دیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد