’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک ’کھلی جنگ‘ کا عہد کیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما کا یہ بیان بیروت میں ان کے صدر دفتر پر بمباری کے فوراً بعد ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حسن نصراللہ کے صدر دفتر پر حملہ انہیں ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ تاہم حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق وہ اس حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بیان کب ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ حسن نصراللہ کا یہ بیان حزب اللہ کے ٹی وی سٹیشن المنار سے جاری کیا گیا۔ بیان میں انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم کھلی جنگ چاہتے تھے تو ہم اس طرف جا رہے ہیں اور ہم اس کے لیئے تیار ہیں۔ اس کے لیئے تیار ہیں۔ سب محاذوں پر جنگ، حیفہ تک، اور میرا یقین کرو، حیفہ سے آگے اور بہت آگے تک‘۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’صرف ہمارے گھر ہی تباہ نہیں ہوں گے، اور صرف ہمارے بچے ہی نہیں ہلاک ہوں گے‘۔
دریں اثناء اسرائیلی فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ کے ایک میزائل حملے سے ان کی ایک بحری کشتی کو نقصان پہنچا ہے اور اس پر موجود چار فوجی غائب ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حزب اللہ نے سمندر میں موجود کشتی کو نشانہ بنانے کے لیئے اس قسم کا ہتھیار استعمال کیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ ’اس جنگی کشتی کو دیکھو جس نے بیروت پر حملہ کیا تھا، جو اب جل رہی ہے اور ہماری آنکھوں کے سامنے ڈوب رہی ہے‘۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کشتی میں کوئی جانی نقصان بھی ہوا ہے یا نہیں۔ اسرائیلی کی اندھا دھند بمباری اور حزب اللہ کے رہنما کے بیان کے بعد لگتا ہے کہ اب یہ بحران مزید بڑھے گا۔ دوسری طرف اسرائیل نے بین الاقوامی برادری کی اپیلوں کے باوجود لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور سٹریٹیجک ٹارگٹس پر شدید گولہ باری جاری رکھی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ یہ بمباری اس وقت ہی ختم ہو گی جب حزب اللہ کو مکمل غیر مسلح کیا جائے گا اور قبضے میں کیئے گئے فوجی واپس آئیں گے۔
اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے لبنان پر حملوں کے تیسرے دن دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کی۔ اس علاقے کو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے جمعہ کو حزب اللہ کے اٹھارہ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ جمعہ کے روز اسرائیلی طیاروں نے بیروت کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے کے رن وے پر تیسری بار بمباری کی اور بیروت سے شام کے شہر دمِشق جانے والے شاہراہ اور اس سے منسلک متعدد سڑکوں پر بھی بم گرائے۔ ایک بجلی گھر پر بھی بمباری کی گئی۔ اسرائیلی بمباری میں اب تک لبنان میں کم از کم ساٹھ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ حزب اللہ کی طرف سے پھینکے گئے راکٹوں سے چار اسرائیلی شہری ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جمعہ کی شب اسرائیل کے ایک سرحدی شہر میرون میں حزب اللہ کی طرف سے پھینکا ہوا ایک راکٹ ایک گھر پر گرا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک دادی اور اس کا پانچ سالہ پوتا شامل ہے۔ تین دوسرے شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اب کہہ رہا ہے کہ اس کا فوجی آپریشن قبضے میں کیئے گئے فوجیوں کی رہائی نہیں ہے بلکہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر حملے اس وقت شروع کیے جب لبنان میں موجود تنظیم حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجی اپنے قبضے میں کر لیئے۔ تازہ لڑائی پر عالمی برادری کی جانب سے دونوں فریقوں سے احتیاط برتنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لبنان نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ آپریشن بند کر دے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی تازہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم المرت نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ قبضے میں کیئے گئے فوجی واپس کر دے اور راکٹ حملے بند کر دے اور لبنان سلامتی کونسل کی قرار داد 1559 پر عمل درآمد کرے تو وہ فائر بندی کے لیئے راضی ہو جائیں گے۔ دوسری طرف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ فوجی اس وقت تک رہا نہیں کیئے جائیں گے جب تک فلسطینی، لبنانی اور اسرائیل کی جیلوں میں موجود دوسرے عرب قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔
|
اسی بارے میں آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان: حزب اللہ کیا ہے؟13 July, 2006 | آس پاس بیروت ہوائی اڈے پر اسرائیل کا حملہ13 July, 2006 | آس پاس ’مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں‘12 July, 2006 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے07 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||