BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 July, 2006, 00:10 GMT 05:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک
اسرائیلی فوج
اسرائیلی نے بری، بحری اور فضائی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے
حزب اللہ کے ہاتھوں دو اسرائیلی فوجیوں کو قبضے میں کیے جانے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے لبنان پر بری، بحری اور فضائی حملے جاری ہیں۔

اسرائیلی حملوں میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کے مطابق جمعرات کے طویل دن کا آغاز اسرائیل کے ہوائی جہازوں کے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بمباری سے ہوا اور اسی طرح ہی دن کا اختتام بھی ہوا۔ اگرچہ لبنانیوں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ ابھی اور بہت سے حملے ہوں گے۔

نامہ نگار کے مطابق اندھیرا ڈھلتے ہی اسرائیل کے جنگی طیاروں نے بیروت کے ہوائی اڈے پر رکھے تیل کے ٹینک اڑا دیئے۔ ایک زور دار دھماکے کے بعد آسمان روشن ہو گیا اور پھر دھویں کے گہرے بادل چاروں طرف چھا گئے۔

رفیق حریری ہوائی اڈہ
اسرائیلی طیاروں نے ہوائی اڈے پر موجود تیل کے ڈپو کو نشانہ بنایا

بیروت کے ہوائی اڈے کے علاوہ اسرائیلی طیاروں نے دو اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ لبنان کے وزیرِ صحت محمد خلیفہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہر طرف جنگ کا سماں ہے، تنظیمی حوالے سے بھی اور سیاسی حوالے سے بھی۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں انسانوں کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ ابھی تک ہم مختلف ہسپتالوں میں ایک سو بیس شدید زخمی افراد کا علاج کر رہے ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر پچپن ہو چکی ہے‘۔

لبنان کے شہری گھروں کو چھوڑ کر جا رہے ہیں
سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہو رہا ہے

دوسری طرف اسرائیلی طیاروں کی طرف سے بیروت کے نواحی علاقوں میں عربی زبان میں پمفلٹ پھینکے گئے ہیں جن میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں سے دور چلے جائیں۔

اس ڈر سے کہ نواحی علاقوں میں جہاں حزب اللہ کی قیادت مقیم ہے اسرائیل ضرور حملے کرے گا بہت سے افراد پہلے ہی وہاں سے جا چکے ہیں۔

حزب اللہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایسا کیا تو وہ اسرائیل کے ساحلی شہر حیفہ پر راکٹ پھینکیں گے۔ تاہم حزب اللہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اس نے پہلے ہی شہر پر راکٹ برسائے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے راکٹ شہر پر آ گرے لیکن ان سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب راکٹ گرے تو اسرائیل کے صدر موشے کاتزو ایک ہسپتال کا دورہ کر رہے تھے۔ راکٹ ہسپتال کے قریب ہی گرے اور اسرائیلی صدر کو محفوظ مقام پر پناہ لینا پڑی۔

حملہ سے کچھ ہی دیر قبل اسرائیلی صدر لبنان پر الزام لگایا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرار داد پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہا ہے جس کے تحت حزب اللہ جیسی ملیشیا کو غیر مسلح کیا جانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے لبنان میں حکام کمزوری اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ وہ لبنانی عوام کے لیئے عزم اور ذمہ داری دکھانے کے لیئے تیار نہیں ہیں۔ یہ لبنان کی حکومت کی وجہ سے ہے۔ بدقسمتی سے وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کروانے کے لیئے تیار نہیں‘۔

تاہم لبنان کے وزیرِ صحت محمد خلیفہ اس سارے بحران کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی قید میں موجود لوگوں کی رہائی سے بحران حل ہو سکتا تھا۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل لبنان پر حملے اپنے دفاع میں کر رہا ہے کیوں کہ اس کے جنوبی علاقے سے حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر حملے کیئے جاتے ہیں اور شام اور ایران حزب اللہ کی پشت پناہی کر رہے ہیں‘۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ریگیو نے کہا: ’اسرائیل لبنان کو ایک کامیاب ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیل لبنان میں آزادی اور جمہوریت کا حامی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران اور شام نے اپنے مسلح پالے ہوئے لوگوں کو ابھی تک وہاں کیوں چھوڑ رکھا ہے اور لبنان نے ان کو غیر مسلح کرنے کے لیئے ابھی تک کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔

ادھر لبنان کی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس کے بعد ساجی امور کی وزیر نائلہ مواد نے کہا کہ ’ہمارا حزب اللہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کیونکہ وہ حد سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں ـ ہم نے کابینہ میں حزب اللہ کے دونوں ممبران پر یہ واضح کر دیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ انھوں نے بیرونی ممالک شام اور ایران کی ایما پر کیا ہے ـ لیکن میرے خیال میں اسرائیل اس کے بدلے ان لوگوں کو ہلاک اور زخمی کر رہا ہے جن کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اسرائیل کو پتا ہونا چاہیئے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے کیونکہ اسے لبنان کی صورت حال کا پتا ہے‘۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیسا رائس نے اسرائیل سے کہا کہ وہ تحمل سے کام لے اور شام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر حملے بند کرنے کے لیئے حزب اللہ پر دباؤ ڈالے۔ سعودی عرب نے لبنان کے اندرونی عناصر کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل شام پر حملہ کرے گا تو یہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیئے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد