BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 July, 2006, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ
حملوں کا چوتھا دن
چار دن کے تشدد میں اب تک ستر لبنانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں
جان بچانے کیلیئے لبنان چھوڑنے کی کوشش کرنے والے 17 لبنانی شہری بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن گئے۔

یہ لوگ ایک قافلے کی صورت میں جا رہے تھے اور اس قافلے میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد لاشیں سڑک پر بکھری پڑی تھیں۔

لبنان پر اسرائیلی طیاروں کے حملے چوتھے دن بھی جاری رہے اور جنوب و مشرق میں برگیڈ کے دفاتر اور پٹرول پمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سنیچر کو اسرائیل نے لبنان پر حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور اب تک ان حملوں میں لبنان کے ستر عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔حزب اللہ نے بھی جوابی حملے کیے اور سرحد کے قریب اسرائیلی قصبوں پر راکٹ پھینکے۔

دریں اثناء حزب اللہ کے ٹیلی ویژن چینل ’المنار‘ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے دوران تین شہری ہرمل میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی میڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ حزب اللہ کے مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بننے والے جہاز کے لاپتہ ہونے والے چار جہازیوں میں سے ایک کی لاش مل گئی ہے۔

اس حملے کے بعد اسرائیلی فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ حزب اللہ کے ایک میزائل حملے سے ان کی ایک بحری کشتی کو نقصان پہنچا ہے اور اس پر موجود چار فوجی غائب ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی ذرائع نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان پر حملوں کی ابتدا اپنے ان دو فوجیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد کی ہے جن کے بارے میں اسے شک ہے کہ انہیں حزب اللہ نے پکڑ لیا ہے۔

اسرائیلی بمباری میں اب تک لبنان میں کم از کم ساٹھ شہری اور حزب اللہ کی طرف سے پھینکے گئے راکٹوں سے چار اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔


حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک ’کھلی جنگ‘ کا عہد کیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما کا یہ بیان بیروت میں ان کے صدر دفتر پر بمباری کے فوراً بعد ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بیان کب ریکارڈ کروایا گیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حسن نصراللہ کے صدر دفتر پر حملہ انہیں ہلاک کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ تاہم حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق وہ اس حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔

درین اثنا حسن نصراللہ کا بیان حزب اللہ کے ٹی وی سٹیشن المنار سے جاری کیا گیا۔ بیان میں انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم کھلی جنگ چاہتے تھے تو ہم اس طرف جا رہے ہیں اور ہم اس کے لیئے تیار ہیں۔ ہم سب محاذوں پر اور حیفہ تک، اور میرا یقین کرو، حیفہ سے بھی آگے اور بہت آگے تک جنگ کے لیئے تیار ہیں‘۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’صرف ہمارے ہی گھر تباہ نہیں ہوں گے، اور صرف ہمارے بچے ہی نہیں ہلاک ہوں گے‘۔

شیخ حسن نصراللہ
حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ لڑائی اسرائیل کے اندر تک جائے گی

تازہ لڑائی پر عالمی برادری کی جانب سے دونوں فریقوں سے احتیاط برتنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لبنان نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ آپریشن بند کر دے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے بھی تازہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم المرت نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ قبضے میں کیئے گئے فوجی واپس کر دے اور راکٹ حملے بند کر دے اور لبنان سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1559 پر عمل درآمد کرے تو وہ فائر بندی کے لیئے راضی ہو جائیں گے۔

دوسری طرف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ فوجی اس وقت تک رہا نہیں کیئے جائیں گے جب تک فلسطینی، لبنانی اور اسرائیل کی جیلوں میں موجود دوسرے عرب قیدیوں کو رہا کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

لبنان پر اسرائیلی بمباری بدھ کے روز شروع ہوئی تھی
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
جلعاد شیلاطاسرائیل کی مشکل
فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا
حماس’حماس کی ہاں‘
’فلسطین اسرائیل منصوبہ‘ رائے دیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد