لبنان پر مزید اسرائیلی بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے لبنان پر حملوں کے تیسرے دن دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کی ہے ۔ اس علاقے کو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے جمعہ کو حزب اللہ کے اٹھارہ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ جمعہ کے روز اسرائیلی طیاروں نے بیروت کے انٹرنیشنل ہوائی اڈے کے رن وے پر تیسری بار بمباری کی اور بیروت سے شام کے شہر دمِشق جانے والے شاہراہ اور اس سے جڑنے والی متعدد سڑکوں پر بھی بم گرائے۔ ایک بجلی گھر پر بھی بمباری کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز اسرائیلی بمباری میں تین افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے اور اس طرح تین دن کی بمباری میں لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اب 50 ہوگئی ہے۔ جبکہ دو اسرائیلی سویلین اور آٹھ اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان پر حملے اس وقت شروع کیے جب لبنان میں موجود تنظیم حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجی اپنے قبضے میں کرلیے۔ اسرائیلی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے لبنان سے سرحد پار اسرائیل کے کچھ شہروں پر راکٹ داغے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں دو دنوں میں دو اسرائیلی سویلین ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے۔ جمعرات کے حزب اللہ نے اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر حیفہ کو نشانہ بنایا۔
لبنان کی فضا میں اڑنے والے اسرائیلی طیاروں کو لبنان کی زمینی فورسز نے طیارہ شکن فائرنگ سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیل نے حملوں سے قبل بیروت کے جنوب میں پرچے گرائے جن میں شہریوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں سے دور رہیں۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے شام کے صدر بشر الاسد سے ٹیلیفون پر بات کی اور ان کو بتایا کہ شام پر ممکنہ اسرائیلی حملوں کی حالت میں ایک ’سخت جوابی کارروائی‘ ہوگی۔ شام نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ لبنان پر حملے روکنے کے لیے وہ اپنی طاقت کا استعمال کرے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے لیکن شام کو حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیل پر حملے بند ہوں۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری شام اور ایران پر یہ بات واضح کرے کہ وہ ’آگ سے کھیل کرے۔‘ اسرائیل نے ایران اور شام کو حزب اللہ اور حماس کے ساتھ ’دہشت گردی کا محور‘ قرار دیا ہے۔ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں کے پہلے دن لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلیوں کو کافی نقصان کا سامنا رہا اور ان کے آٹھ فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ دو اسرائیلی فوجی ابھی بھی حزب اللہ کے قبضے میں ہیں۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے اور دونوں اسرائیلی فوجیوں کو اس وقت تک رہا نہیں کیا جائے گا جب تک اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی، لبنانی اور دیگر عرب قیدیوں کی رہائی کے لیے سمجھوتہ نہیں ہوجاتا۔ اسرائیل غزہ کی پٹی میں بھی ایک فوجی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے جہاں فلسطینی تنظیموں نے ایک اسرائیلی فوجی کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اسرائیل نے لبنان کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کا بھی اعلان کیا ہے۔
|
اسی بارے میں آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان: حزب اللہ کیا ہے؟13 July, 2006 | آس پاس بیروت ہوائی اڈے پر اسرائیل کا حملہ13 July, 2006 | آس پاس ’مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں‘12 July, 2006 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے07 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||