BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق
اسرائیلی بمباری کا نشانہ
اسرائیلی بمباری کا بنیادی نشانہ لبنانی انفراسٹرکچر ہے
لبنانی وزیرِعظم کی درخواست کے باوجود اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک لبنان میں جنگ بندی کی اپیل کے بیان پر متفق نہیں ہو پائے ہیں۔

لبنانی سفارت کاروں نے امریکہ کو اس عدم اتفاق کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر ژاں مارک ڈیلا سبلیئر نےبتایا کہ ’ جنگ بندی پر بیان سے متعلق آج رات کوئی سمجھوتہ نہیں طے پا سکا‘۔

اقوامِ متحدہ میں لبنان نے نمائندے نوہاد محمود کا کہنا ہے کہ وہ اس اعلان سے ’بہت مایوس‘ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف لبنانی عوام بلکہ تمام عرب دنیا کے لیئے ایک انتہائی غلط اشارہ ہے۔

فواد السنیورہ
لبنان تباہی کا شکار علاقہ ہے:فواد السنیورہ

یاد رہے کہ ہفتے کو لبنانی وزیرِاعظم فواد السنيورہ نے لبنان کو ایک ’تباہی کا علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور اقوامِ متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ السنيورہ نے تمام لبنانیوں سے کہا تھا کہ وہ متحد ہو جائیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو حزب اللہ کے سرحدی چھاپے کے متعلق کچھ علم نہیں ہے جس میں دو اسرائیلی قبضے میں لیئے گئے تھے اور آٹھ ہلاک ہوئے تھے۔تاہم انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو ’قتل کرنے والی مشین‘ کہا۔ انہوں نے کہا: ’لبنان ایک تباہی کا علاقہ ہے اور وہ اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس کی فوری مدد کے لیئے آئیں‘۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب ایک قافلے پر اسرائیلی حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ لوگ مرواہین گاؤں سے اسرائیلیوں کے کہنے پر ہی ہجرت کر رہے تھے۔ تاہم اسرائیل کے سکیورٹی کے وزیر آئزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ حملے نشانہ لے کر کیئے گئے تھے اور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ کم سے کم عام شہری ہلاک ہوں۔

تازہ حملوں میں حزب اللہ کے ٹی وی سٹیشن کی عمارت نشانہ بنی

انہوں نے کہا: ’لبنان میں ہمارے حملوں کا نشانہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے ایران اور شام کی حکومتیں حزب اللہ کو ہتھیار مہیا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ہوائی اڈہ حزب اللہ کے لیئے اسلحہ اور دوسرا سازوسامان لانے کا اہم ذریعہ ہے اور اسی طرح دمشق کو جانے والا راستہ بھی۔ ہم یقیناً دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ لبنان اور حزب اللہ کو اس طرح کی سپلائی نہ ملے‘۔

تاہم بدھ سے جاری اسرائیل کی لبنان پر بمباری سے درجنوں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے بھی کئی اسرائیلی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ اب اسرائیل کے اندر دور تک مار کر رہے ہیں۔

حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
 اسمٰعیل ہانیہاسمٰعیل ہانیہ پر دباؤ
اسرائیلی فوجی کا اغوا، فلسطین میں بحران
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد