جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنانی وزیرِعظم کی درخواست کے باوجود اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک لبنان میں جنگ بندی کی اپیل کے بیان پر متفق نہیں ہو پائے ہیں۔ لبنانی سفارت کاروں نے امریکہ کو اس عدم اتفاق کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر ژاں مارک ڈیلا سبلیئر نےبتایا کہ ’ جنگ بندی پر بیان سے متعلق آج رات کوئی سمجھوتہ نہیں طے پا سکا‘۔ اقوامِ متحدہ میں لبنان نے نمائندے نوہاد محمود کا کہنا ہے کہ وہ اس اعلان سے ’بہت مایوس‘ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف لبنانی عوام بلکہ تمام عرب دنیا کے لیئے ایک انتہائی غلط اشارہ ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کو لبنانی وزیرِاعظم فواد السنيورہ نے لبنان کو ایک ’تباہی کا علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور اقوامِ متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ السنيورہ نے تمام لبنانیوں سے کہا تھا کہ وہ متحد ہو جائیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو حزب اللہ کے سرحدی چھاپے کے متعلق کچھ علم نہیں ہے جس میں دو اسرائیلی قبضے میں لیئے گئے تھے اور آٹھ ہلاک ہوئے تھے۔تاہم انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو ’قتل کرنے والی مشین‘ کہا۔ انہوں نے کہا: ’لبنان ایک تباہی کا علاقہ ہے اور وہ اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس کی فوری مدد کے لیئے آئیں‘۔ اطلاعات کے مطابق ہفتے کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب ایک قافلے پر اسرائیلی حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ لوگ مرواہین گاؤں سے اسرائیلیوں کے کہنے پر ہی ہجرت کر رہے تھے۔ تاہم اسرائیل کے سکیورٹی کے وزیر آئزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ حملے نشانہ لے کر کیئے گئے تھے اور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ کم سے کم عام شہری ہلاک ہوں۔
انہوں نے کہا: ’لبنان میں ہمارے حملوں کا نشانہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے ایران اور شام کی حکومتیں حزب اللہ کو ہتھیار مہیا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ہوائی اڈہ حزب اللہ کے لیئے اسلحہ اور دوسرا سازوسامان لانے کا اہم ذریعہ ہے اور اسی طرح دمشق کو جانے والا راستہ بھی۔ ہم یقیناً دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ لبنان اور حزب اللہ کو اس طرح کی سپلائی نہ ملے‘۔ تاہم بدھ سے جاری اسرائیل کی لبنان پر بمباری سے درجنوں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے بھی کئی اسرائیلی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ اب اسرائیل کے اندر دور تک مار کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچے ہی نہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس اسرائیل پر قرار داد، امریکہ کا ویٹو13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||