BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 July, 2006, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیروت والے: کہیں کوئی گھرنہیں ہے
لبنان
روتے دھوتے سینکڑوں لوگ بیروت چھوڑ کر جا رہے ہیں
اکتیس سالہ ابو محمد کی اہلیہ اور چھ بچے جائے پناہ کی تلاش میں گھر سے نکلے تو ان کے کان اسرائیلی گولوں کے دھماکوں کو گونج سے بھرے ہوئے تھے۔


محمد کے خاندان نے کم سے کم سامان ساتھ لیا لیکن کمبل، پیالے، دوائیاں اور کافی تو لینی ہی تھی اور اب ان کا قیام بیروت کے وسط میں واقع ایک چھوٹے سے پارک میں ہے جہاں ان کے علاوہ سو کے قریب دوسرے خاندان بھی پناہ لیئے ہوئے ہیں۔

محمد کا کہنا ہے کہ ’فی الحال تو یہ پناہ بھی غنیمت ہے لیکن ہمیں توقع ہے کہ کہ یہ حالات عارضی ثابت ہوں گے‘۔

لبنان پر اسرائیل بمباری شروع ہونے کے بعد اب تک ہزاروں لبنانی شہری اور غیر ملکی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

شہروں میں رہنے والے کچھ لوگ بمباری سے بچنے کے لیئے اپنے اُن عزیزوں اور رشتے داروں کے پاس جا رہے ہیں جو پہاڑوں میں رہتے ہیں لیکن محمد کے خاندان جیسے لوگوں کے پاس بیروت سے نکلنے اور پارکوں جیسے مقامات پر رہنے کے سوا رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

بیروت کے نواح میں رہنے والے شہری محمد کا خاندان جو اب ایک پارک میں مقیم ہے

یہ لوگ بیروت کے جنوبی نواح کے رہائشی ہیں جو خاص طور پر اس وقت سے اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جب مبینبہ طور پر گزشتہ بدھ کو حزب اللہ نے آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور دو کو پکڑ لیا تھا۔

بیروت کے نواحی علاقے حزب اللہ کے گڑھ تصور کیئے جاتے ہیں اور اور ان علاقوں کے رہنے والوں کو شدت پسند تنظیموں کا حامی سمجھا جاتا ہے ان لوگوں کی اکثریت افلاس زدگان پر مشتمل ہے۔

اسرائیل نے اس علاقوں میں طیاروں کے ذریعے ایسے لیف لٹس یا ورقچے گرائے ہیں جن میں ان علاقوں کے رہنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں کو خالی کر دیں۔

اسرائیل نے ایسے علاقوں پر بھی ہزاروں بم گرائے ہیں جن کے بارے میں اس نوع کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں شدت پسندوں کے حامی رہتے ہیں۔

صنیعہ پارک میں ایک سرخ بچھؤنے پر بیٹھے محمد کا کہنا تھا کہ ’بچے چیخ چلا رہے تھے اور میں انہیں وہاں سے نکالنا چاہتا تھا۔ میں اس پر خوش ہوں کہ ہم یہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو سب سو جاتے ہیں اس کے بعد اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں‘۔

مقامی لبنانی رضا کار اس طرح پناہ لینے والے خاندانوں کو اوڑھنے بچھونے اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔

 محمد کا خاندان
اسرائیلی بمباری کی وجہ سے سینکڑوں خاندان گھر بار چھوڑ کر پارکوں میں مقیم ہیں اور لوگوں کی دی ہوئی اشیاء پر گزر بسر کر رہے ہیں

جب پارک میں محمد کے خاندان سے بات کی جا رہی تھی تو اسی دوران ایک آدمی پانی یک بوتلوں اور چاکلیٹ سے بھرا ہوا ڈبہ لے کر آیا اور سارے بچے اس ٹوٹ پڑے اور اسے نیچے گرا کر اس پر چڑھ گئے۔

محمد کا کہنا ہے کہ سرحد پار حزب اللہ چھاپوں کی کارروائیوں نے بھی حالیہ بحران کو سنگین بنایا ہے اور اسی بنا پر اسے اپنا گھر بھی چھوڑنا پڑا لیکن وہ شدت پسندوں کی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

اس کہنا ہے کہ ’جب کوئی آپ کو ایک بار مارتا ہے تو آپ کو پوری کوشش ہوتی ہے کہ آپ اسے دگنی طاقت سے جواب دیں اور اسرائیل نے تو ماضی میں ہمیں کئی بار نشانہ بنایا ہے‘۔

حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
 اسمٰعیل ہانیہاسمٰعیل ہانیہ پر دباؤ
اسرائیلی فوجی کا اغوا، فلسطین میں بحران
فلسطینی ہلاکتیں
اسرائیلی بحریہ کا حملہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد