بیروت والے: کہیں کوئی گھرنہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتیس سالہ ابو محمد کی اہلیہ اور چھ بچے جائے پناہ کی تلاش میں گھر سے نکلے تو ان کے کان اسرائیلی گولوں کے دھماکوں کو گونج سے بھرے ہوئے تھے۔ محمد کے خاندان نے کم سے کم سامان ساتھ لیا لیکن کمبل، پیالے، دوائیاں اور کافی تو لینی ہی تھی اور اب ان کا قیام بیروت کے وسط میں واقع ایک چھوٹے سے پارک میں ہے جہاں ان کے علاوہ سو کے قریب دوسرے خاندان بھی پناہ لیئے ہوئے ہیں۔ محمد کا کہنا ہے کہ ’فی الحال تو یہ پناہ بھی غنیمت ہے لیکن ہمیں توقع ہے کہ کہ یہ حالات عارضی ثابت ہوں گے‘۔ لبنان پر اسرائیل بمباری شروع ہونے کے بعد اب تک ہزاروں لبنانی شہری اور غیر ملکی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ شہروں میں رہنے والے کچھ لوگ بمباری سے بچنے کے لیئے اپنے اُن عزیزوں اور رشتے داروں کے پاس جا رہے ہیں جو پہاڑوں میں رہتے ہیں لیکن محمد کے خاندان جیسے لوگوں کے پاس بیروت سے نکلنے اور پارکوں جیسے مقامات پر رہنے کے سوا رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ لوگ بیروت کے جنوبی نواح کے رہائشی ہیں جو خاص طور پر اس وقت سے اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جب مبینبہ طور پر گزشتہ بدھ کو حزب اللہ نے آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور دو کو پکڑ لیا تھا۔ بیروت کے نواحی علاقے حزب اللہ کے گڑھ تصور کیئے جاتے ہیں اور اور ان علاقوں کے رہنے والوں کو شدت پسند تنظیموں کا حامی سمجھا جاتا ہے ان لوگوں کی اکثریت افلاس زدگان پر مشتمل ہے۔ اسرائیل نے اس علاقوں میں طیاروں کے ذریعے ایسے لیف لٹس یا ورقچے گرائے ہیں جن میں ان علاقوں کے رہنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں کو خالی کر دیں۔ اسرائیل نے ایسے علاقوں پر بھی ہزاروں بم گرائے ہیں جن کے بارے میں اس نوع کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں شدت پسندوں کے حامی رہتے ہیں۔ صنیعہ پارک میں ایک سرخ بچھؤنے پر بیٹھے محمد کا کہنا تھا کہ ’بچے چیخ چلا رہے تھے اور میں انہیں وہاں سے نکالنا چاہتا تھا۔ میں اس پر خوش ہوں کہ ہم یہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو سب سو جاتے ہیں اس کے بعد اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہیں‘۔ مقامی لبنانی رضا کار اس طرح پناہ لینے والے خاندانوں کو اوڑھنے بچھونے اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔
جب پارک میں محمد کے خاندان سے بات کی جا رہی تھی تو اسی دوران ایک آدمی پانی یک بوتلوں اور چاکلیٹ سے بھرا ہوا ڈبہ لے کر آیا اور سارے بچے اس ٹوٹ پڑے اور اسے نیچے گرا کر اس پر چڑھ گئے۔ محمد کا کہنا ہے کہ سرحد پار حزب اللہ چھاپوں کی کارروائیوں نے بھی حالیہ بحران کو سنگین بنایا ہے اور اسی بنا پر اسے اپنا گھر بھی چھوڑنا پڑا لیکن وہ شدت پسندوں کی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ اس کہنا ہے کہ ’جب کوئی آپ کو ایک بار مارتا ہے تو آپ کو پوری کوشش ہوتی ہے کہ آپ اسے دگنی طاقت سے جواب دیں اور اسرائیل نے تو ماضی میں ہمیں کئی بار نشانہ بنایا ہے‘۔ |
اسی بارے میں مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس لبنان پر مزید اسرائیلی بمباری14 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس بیروت ہوائی اڈے پر اسرائیل کا حملہ13 July, 2006 | آس پاس حزب اللہ نے بھی دو فوجی پکڑ لیئے12 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||