لبنانی وزیرِاعظم کی جنگ بندی کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے فضائی حملوں اور حزب اللہ کے راکٹ حملوں کے ایک اور دن کے بعد لبنان کے وزیرِ اعظم فواد السنيورہ نے کہا کہ اسرائیل نے ان کے ملک پر ایک غیر منصفانہ اور غیر قانونی جنگ مسلط کی ہوئی ہے۔ لبنانی ٹی وی سے نشر ہونے والے خطاب میں انہوں نے لبنان کو ایک ’تباہی کا علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اقوامِ متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی۔ اسرائیل کے تازہ حملے میں بیروت کی بندرگاہ اور لبنان کے دوسرے بڑے شہر ٹرپولی کو نقصان پہنچا ہے۔ السنيورہ نے تمام لبنانیوں سے کہا کہ متحد ہو جائیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو حزب اللہ کے سرحدی چھاپے کے متعلق کچھ علم نہیں ہے جس میں دو اسرائیلی قبضے میں کر لیئے گئے تھے اور آٹھ ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو ’قتل کرنے والی مشین‘ کہا۔
انہوں نے کہا: ’لبنان ایک تباہی کا علاقہ ہے اور وہ اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس کی فوری مدد کے لیئے آئیں‘۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی سرحد کے قریب ایک قافلے پر اسرائیلی حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ مرواہین گاؤں سے اسرائیلیوں کے کہنے پر ہی ہجرت کر رہے تھے۔ تاہم اسرائیل کے سکیورٹی کے وزیر آئزک ہرزوگ نے کہا ہے کہ حملے نشانہ لے کر کیئے گئے تھے اور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ کم سے کم عام شہری ہلاک ہوں۔ انہوں نے کہا: ’لبنان میں ہمارے حملوں کا نشانہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے ذریعے ایران اور شام کی حکومتیں حزب اللہ کو ہتھیار مہیا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ہوائی اڈہ حزب اللہ کے لیئے اسلحہ اور دوسرا سازوسامان لانے کا اہم ذریعہ ہے اور اسی طرح دمشق کو جانے والا راستہ بھی۔ ہم یقیناً دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ لبنان اور حزب اللہ کو اس طرح کی سپلائی نہ ملے‘۔ تاہم بدھ سے جاری اسرائیل کی لبنان پر بمباری سے درجنوں عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے بھی کئی اسرائیلی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ اب اسرائیل کے اندر دور تک مار کر رہے ہیں۔ دریں اثناء قاہرہ میں ہونے والے عرب وزراء خارجہ کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد کے واقعات کا ذمہ دار اقوامِ متحدہ کے توسط سے امریکہ، یورپی اتحاد اور روس کی طرف سے ہونے والے امن کے عمل میں ناکامی کو ٹھہرایا گیا ہے۔ وزراء نے کہا ہے کہ امن کے عمل کی ذمہ داری اقوامِ متحدہ کو دے دینی چاہیئے۔ |
اسی بارے میں مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچے ہی نہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس اسرائیل پر قرار داد، امریکہ کا ویٹو13 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||