BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 21:16 GMT 02:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان کے شمال اور مشرق میں حملے
 حیفہ
اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان سے حزب اللہ نے جو راکٹ داغے ہیں ان کی پہنچ شہر میں پچاس کلومیٹر تک تھی
اسرائیل نے شدت پسند گروپ حزب اللہ کے خلاف لبنان میں اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے اتوار اور پیر بیروت کے علاوہ شمالی لبنان کے شہر تریپولی اورمشرقی شہر بالبیک پر فضائی حملے کیئے ہیں۔

لبنان میں حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کی اس تازہ کارروائی میں دارالحکومت بیروت اور تریپولی میں آٹھ فوجیوں سمیت تیرہ افراد مارے گئے ہیں۔ اس سے قبل جنوبی شہر تایر میں اسرائیلی کارروائی میں انیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ لبنان کے سرحدی گاؤں میں اسرائیلی حملے میں آٹھ ایسے افراد بھی مارے گئے جن کے پاس لبنان اور کینیڈا کی دوہری شہریت تھی۔

اسرائیل نے لبنان کو یہ وارننگ بھی دی ہے کہ اسے حزب اللہ کی طرف سے اسرائیلی شہر حیفہ میں راکٹوں کے حملے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

تازہ اسرائیلی حملے میں بیروت میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں

اتوار کو اسرائیل نے جنوبی لبنان پر توجہ مرکوز رکھی اور بیروت کے ہوائی اڈے کو بھی پھر سے نشانہ بنایا۔ تاہم اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے شمالی شہر تریپولی پر پہلی بار حملہ کیا۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بقول ان کے اسرائیل کی شمالی سرحد کی ’حقیقت بدل نہیں جاتی۔‘

ادھر فلسطین میں عینی شاہدوں کے مطابق وزارتِ خارجہ کی عمارت پر بھی اسرائیلی حملہ ہوا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے تازہ فضائی حملوں میں بیروت میں ہوائی اڈے کو پھر نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈے پر موجود تیل کے ٹینکوں کو آگ لگ گئی۔

اسرائیلی شہر حیفہ پر حملہ اب تک کا بدترین حملہ تصور کیا جا رہا ہے

ادھر اقوامِ متحدہ اور یورپی اتحاد کے اعلیٰ ترین اہلکار بیروت پہنچ گئے ہیں جہاں بحرانی صورتِ حال پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ حاویر سولانا نے لبنان کے وزیرِ اعظم فواد سانی اورا سے ملاقات کے بعد تشدد کے خاتمے اور حزب اللہ کے قبضے سے اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کی اپیل کی ہے۔

پیر کو یورپی اتحاد کے وزارئے خارجہ ایک اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران پر غور کریں گے۔

جی ایٹ کے رہنماؤں نے بحران کا ذمہ دار انتہا پسندوں کو ٹھرایا ہے اور اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں بند کر دے۔

قبل ازیں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ نے اسرائیلی شہر پر جو راکٹ داغے ہیں انہوں نے اسرائیل حیفہ شہر میں کافی اندر تک نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان راکٹوں کی پہنچ اسرائیلی شہر کے اندر پچاس کلو میٹر تک تھی۔

اسی دوران حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے موجودہ صورتحال کے بارے میں ٹیلی ویژن پر اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ لڑائی کی ابھی ابتدا ہوئی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے حزب اللہ کو میزائل فراہم کیئے تھے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے متنبہ کیا کہ شام پر حملے کی صورت میں اسرائیل کو ناقابل یقین نقصان اٹھانا پڑے گا۔

’اسرائیل کے ساتھ لڑائی کی ابتدا ہوئی ہے‘

حالیہ دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب اسرائیلی شہر حزب اللہ کے راکٹوں کا نشانہ بنے ہیں۔یروشلم میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ تاحال یہ خیال کیا جاتا تھا کہ لبنان کی سرحد سے جنوب میں واقع اسرائیل کے ساحلی شہر حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان پر بڑے حملے کیئے جائیں گے اور اس نے تمام شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کے لیئے کہا ہے۔

 تاحال یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اسرائیل کے ساحلی شہر حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

اسرائیل نے کہا تھا کہ ان تمام مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں سے اسرائیل پر راکٹ فائر کیئے گئے تھے اور اس میں رہائشی علاقے بھی شامل ہیں۔

حزب اللہ کا موقف ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دے رہی ہے جن میں درجنوں شہری ہلاک اور لبنان کے اہم مقامات تباہ ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں اب تک کم از کم سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد