BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 July, 2006, 18:22 GMT 23:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کا دردِ سر۔ حزب اللہ

اسرائیل پر حزب اللہ کے میزائل حملوں خاصا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل پر حزب اللہ کے میزائل حملوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کی لڑائی بہرحال برابر کی لڑائی نہیں ہے۔ اسرائیل ایک خاصی بڑی طاقت ہے جس کے پاس اعلیٰ معیار کی بری، بحری اور فضائی افواج ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اپنا آغاز ایک گوریلا گروپ کے طور پر کیا۔ اگرچہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران اس نے بھی فوجی آلات کا ایک پیچیدہ نظام ترتیب دے لیا ہے لیکن اس کے پاس ان ہتھیاروں میں سے چند ہی ہیں جواسرائیل کو مہیا ہیں۔ دور مار کرنے والے ہتھیاروں کی شکل میں اس کے پاس صرف ادھر ادھر کے میزائل ہیں۔

ان میزائلوں کی اکثریت قدرے کم فاصلے تک مار کرنے والے کٹوشیا پر مشتمل ہے جو پچیس کلومیٹر تک اپنے حدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لیکن اسرائیل کے شمالی ساحلی شہر حیفہ پر حالیہ حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حزب اللہ کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا بھی کوئی نظام موجود ہے۔

حزب اللہ کے میزائل سسٹم میں زیادہ تر ایرانی ساخت کے پینتالیس کلومیٹر تک مار کرنے والے فجر-3 ، تقریباً پچھہتر کلومیٹر تک مار کرنے والے فجر-5 اور ان سے زیادہ طاقتور دو سو کلومیٹر تک مار کرنے والے زلزال-2 قسم کے میزائل شامل ہیں۔

میزائلوں کے اس مجموعہ کا مطلب یہ ہے اسرائیل کا سب سے بڑا شہر تل ابیب کا زیادہ تر حصہ حزب اللہ کے حملوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔

ان میزائلوں میں سے کوئی بھی ’گائیڈڈ‘ میزائل نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کا نشانہ شہری آبای ہو تو پھر میزائل کا ٹھیک نشانے پر لگنا بھی کوئی ضروری نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ اسرائیلی بحریہ کے جہاز پر کامیاب حملہ ( اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مصری بحری جہاز پر حملہ) یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ حزب اللہ کے پاس ایرانی ساخت کے ’اینٹی شپ‘ یا بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے قدرے اچھے معیار کے میزائل بھی موجود ہیں۔

حزب اللہ کے میزائلوں کے اس ذخیرے نے اسرائیلی فوج کو کچھ عرصے سے فکر مند کیا ہوا ہے۔

اسرائیل کی جنگی حکمت عملی بنانے والوں کو معلوم ہے کہ فضائی حملوں سے تمام جنگی مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔

اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اسرائیلی قیادت نے دو قیدیوں کو قبضے میں لیے جانے کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ کے فوجی نظام کو مکمل طور پر کمزور کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اسی لیے اسرائیل نےحزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز، ان کے ٹی وی سٹیشن اور میزائلوں کو چھپانے والی جگہوں، سب کو نشانہ بنا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے تو بیروت ائر پورٹ، بیروت تا دمشق ہائی وے اور پلوں سمیت دوسرے کئی راستوں پر بمباری کر کے لبنان کا ناطقہ بھی بند کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسرائیلی اس کی وضاحت یہ پیش کرتے ہیں کہ ان مقامات کو نشانہ بنانے کا مقصد دراصل حزب اللہ کو لبنان میں مزید میزائل لانے اور یا پہلے سے موجود میزائلوں کو سرحد کے قریب لانے سے روکنا ہے۔ اس قسم کے حملوں میں بم جتنے بھی ٹھیک نشانے پر لگیں، عام شہری ان میں بہرحال ہلاک ہوتے ہیں۔

اسرائیل کے دور رس مقاصد بالکل واضح ہیں۔وہ چاہتا ہے کہ حزب اللہ کےمتوقع حملوں کے خلاف شدید کارروائی کر کے وہ اپنے شہروں اور قصبوں کو سرحد پار سے چلائے جانے والے میزائلوں کے خطرے سےمحفوظ کر دے۔
اس کی خواہش ہوگی کہ کسی طرح حز ب اللہ کی ہتھیاروں کی طاقت ختم ہو جائے اور یہ کہ لبنانی فوج اپنے اختیار کا دائرہ لبنان اسرائیل سرحد تک بڑھا لے۔یہی بات سلامتی کونسل کی سنہ دو ہزار چار کی قرارداد نمبر 1559 میں کہی گئی تھی۔ لیکن اس بات کا تصور کرنا مشکل ہے کہ اس قرارداد کا اطلاق کیونکر ہوگا۔

کسی حد تک اسرائیلی حکمت عملی کی بھی سمجھ نہیں آتی۔لبنان کی سڑکوں اور ہوائی اڈوں کو ناکارہ بنانے سے میزائلوں کی نقل وحمل میں خلل تو ڈالا جا سکتا ہے، اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حزب اللہ نے زبردست فوجی لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور ابھی تک راکٹ اسرائیل کی شمالی سرحد سے اندر آ رہے ہیں۔ حزب اللہ کو فضائی حملوں کے ذریعے کوئی بڑا نقصان پہنچانا بہت مشکل ہے۔

تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ سب جو ہم دیکھ رہے ہیں، اسرائیل کی بری فوج کی لبنان پر ایک بڑی چڑھائی کا محض نقطہ آغاز ہے۔

بظاہراسرائیل نے ابھی تک اپنی فوج کی کوئی بڑی نقل و حمل بھی نہیں شروع کی جس سے ظاہر ہو کہ وہ کسی بڑی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں جو بات خاص طور پر قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر اسرائیل کا حزب اللہ پر ایک بھرپور حملے کا ارادہ ہے تو وہ وادی بقا کی جانب ایک بڑی پیش قدمی کے بغیر ممکن نہیں۔ابھی تک ہمیں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔اس اقدام سے جہاں شام میں خطرے کی گھنٹی بجے گی وہاں اس لڑائی کا دائرہ مزید بڑھ جائے گا۔

بحری جہاز پر میزائل حملے نے اسرائیل کی آنکھیں کھول دی تھیں۔

اسرائیلی کی اپنی فوجی کارکردگی بھی کئی سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ یہاں تک کہ خود اسرائیلی مبصرین اس حقیقت کی جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ فلسطینی شدت پسندوں، اور بعد میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیلی فوجیوں کو اپنے قبضے میں لے لینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیلی فوج کے ریزرو یونٹ کتنے کاہل اور غیر موثر ہیں۔ حزب اللہ نہ صرف ماضی میں واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ اس قسم کی کارروائیاں کرے گا بلکہ وہ ایسا کر بھی چکا ہے۔ کیا اسرائیل کے ریزرو فوجیوں کی روز مرہ تربیت بہت کم کر دی گیی ہے یا وہ واقعی سست پڑ چکے ہیں۔

اسی طرح اسرائیل کے سب سے زبردست بحری جہاز پر حملہ بھی کئی سولات کو جنم دیتا ہے۔

اس جہاز پر حملے میں جو میزائل استعمال کیا گیا تھا وہ چینی ساخت کا سی-802 میزائل تھا جو کہ ایک ’لیزر گائیڈڈ‘ میزائل ہے۔

کیا اسرائیلی خفیہ ادارے کو یہ بات نہیں معلوم تھی کہ ایران یہ میزائل حزب اللہ کو فراھم کر چکا ہے۔

اسرائیلی بحریہ کے جہازوں میں نصب الیکٹرانک اور دفاعی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ہے۔ ایسے دفاعی نظام کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ جہاز کو اس قسم کے حملوں سے بچائے۔ کچھ رپورٹوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنایا گیا اس وقت اس پر یہ نظام کام نہیں کر رہا تھا۔

یہ سوالات اپنی جگہ، لیکن جو شے سب سے اہم سوالوں کو جنم دیتی ہے وہ ہے اسرائیل کی نئی حکومت اور اس کی فوج کے درمیان تعلقات۔

وزیراعظم ایہود اولمرت اور وزیر دفاع امیر پیرز کے محدود فوجی تجربے کے بارے میں اب تک بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔

اولمرت ایک تنگ گلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔انہیں اسرائیلی شہریوں کے بچاؤ کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا ہے لیکن اگر آپ کسی فوجی جنرل سے پوچھیں کہ شہریوں کے دفاع کے لیے کیا کرنا چاہیے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ آپ کو ممکنہ اقدامات کی ایک لمبی فہرست تھما دے۔

لگتا ہے اسرائیل اس وقت ایک ایسی ہی فہرست پر عمل کر رہا ہے۔ لیکن بہترین حمکت عملی کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کیا آپ فوجی اور وسیع تر سیاسی تریجات میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں۔

کیا اسرائیل یہ توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے؟

اگرچہ اس معاملے پر کئی آراء پائی جاتی ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر اتفاق رائے یہی ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جو فوجی طاقت استعمال کی جا رہی وہ بہت زیادہ ہے۔

اسرائیلی کارروائیوں کی واضح تائید کرنے کے باوجود صدر بش نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ اسرائیل نے بے جا فوجی طاقت استعمال کی ہے۔

صدر بش کا اسرائیل کو کہنا تھا ’ اپنا دفاع کرو لیکن نتائج کے لیے بھی تیار رہو۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد