ایران کا ہاتھ ہے، اسرائیل: شام پر شبہہ ہے، امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبان میں اسرائیلی بمباری کے ساتویں دن امریکہ اور اسرائیل نے علیحدہ علیحدہ شام اور ایران کو کسی نے کسی طرح موجود بحران سے فائدہ اٹھانے یا اس کا ذمہ دار ہونے کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ ادھر اسرائیل نے بدھ کی صبح لبنان پر پھر زمینی اور فضائی حملہ کیا ہے اور کچھ اسرائیلی فوجی جنوب کی طرف سے لبنان کی سرحد پار کر گئے ہیں جو اسرائیلی فوج کے بقول ’محدود اور خاص حملے‘ کریں گے۔ مشرقِ وسطیٰ پر بات کرتے ہوئے صدر جارج بش نے کہا کہ انہیں شبہہ ہے کہ شام، لبنان کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور لبنان میں موجود کچھ عناصر اسے وہاں دوبارہ داخل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے دو فوجیوں کے قیدی بننے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے جو اپنے جوہری پروگرام سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔
صدر بش کے بیان میں شام پر شبہے کا اظہار تو ہے لیکن ایران کے بارے میں کسی قسم کا کوئی ذکر نہیں جبکہ ایہود اولمرت نے صرف ایران کا تذکرہ کیا ہے اور شام کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ صدر بش نے کہا کہ موجود کشاکش کی جڑ حزب اللہ ہے اور اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اس طرح حل کیا جاسکتا ہے کہ شام پر واضح کردیا جائے کہ وہ حزب اللہ کی مدد کرنا بند کرے۔ امریکہ میں شام کے سفیر عماد مصطفیٰ نے صدر بش کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر انگلی اٹھانے کی بجائے امریکی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ علاقوں کا معاملہ طے کرنے کی کوشش کرے۔
عماد مصطفیٰ نے کہا: ’میرا مشورہ ہے کہ اسرائیلیوں کی پالیسیوں کے پیچھے پیچھے نہیں چلنا چاہیئے کہ دنیا کی ہر بات پر تو رائے دے دی جائے لیکن آنکھوں کا شہتیر دکھائی نہ دے۔ بش انتظامیہ کو چاہیئے کہ اس سے قبل امریکی حکومتوں نے جو کیا تھا وہ کرے اور تمام فریقوں سے بات کرے۔‘ واشنگٹن میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب یہ واضح ہورہا ہے کہ امریکی حکمت عملی یہ ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی پر دنیا کو جو غصہ ہے اس کا رخ شام کی طرف موڑ دیا جائے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ ہفتے حزب اللہ کا دو اسرائیلی فوجیوں کو قبضے میں لینا اور آٹھ فوجیوں کا مارا جانا ’ایران کی شہہ پر ہوا ہے۔‘ ادھر ریڈ کراس کی بین الاقوامی فیڈریشن اور ہلال احمر نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں انسانی مصیبتوں کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ریڈکراس کے سربراہ احمد جیزو نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے سات لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان لوگوں تک کھانے پینے کی بنیادی رسد پہنچانے کے لیۓ ضروری ہے کہ لڑائی روکی جائے۔
جنوبی لبنان میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ وہاں کے دیہات میں جنہوں نے بری طرح بمباری سہی ہے کسی طرح کی رسد نہیں پہنچ سکی ہے کیونکہ سڑکیں تباہ کردی گئی ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا انتہائی خطرناک ہے۔ لبنان کے ساحل پر بیرونی ملکوں کے بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر بڑی تعداد میں جمع ہورہے ہیں جن میں ہر ملک اپنے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کا بندو بست کررہا ہے۔ سینکڑوں یورپی باشندوں کو قبرص پہنچایا جاچکا ہے۔ ایک برطانوی بحری جہاز اپنے باشندوں کو لے کر بیروت سے روانہ ہوگیا ہے۔ امریکہ کا کہنا کہ اسکے تین سو سے زیادہ باشندوں کو نکالا جائے گا اس کے بعد روزانہ ایک ہزار امریکیوں کو بہ حفاظت نکالا جائے گا۔ کینیڈا اپنے شہریوں کو محفوظ کرنے کے لیئے چھ جہاز بھیج رہا ہے جبکہ چین، بھارت ، سری لنکا اور کئ اور ملک بھی اسی طری کے انتظامات کررہے ہیں۔ ادھر منگل کو لبنان کے وزیرِ اعظم فواد السنیورہ نے کہا کہ ’اسرائیل ان کے ملک پر پاگل پن اور دوزح کے دروازے کھول رہا ہے‘۔
بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے حزب اللہ سے کہا کہ وہ قبضے میں کیئے گئے دو اسرائیلی فوجیوں کو واپس کر دیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بحران پر اسرائیل کا ردِ عمل غیر متناسب ہے۔ دریں اثناء منگل کو بیروت کے قریب ایک تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم گیارہ لبنانی فوجی مارے گئے ہیں جبکہ لبنان پر سات دن سے جاری اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ لبنانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک لبنانی فوجی بیرک پر کیا گیا اور اس میں کم از کم تیس فوجی زخمی بھی ہوئے۔ |
اسی بارے میں تازہ اسرائیلی حملے، ’تئیس ہلاک‘ 16 July, 2006 | آس پاس حیفہ پر راکٹ حملے، نو ہلاک16 July, 2006 | آس پاس تباہی کے کچھ مناظر: وڈیو16 July, 2006 | آس پاس لبنان کے شمال اور مشرق میں حملے16 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق16 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||