حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر تازہ حملے کیئے ہیں اور اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی فوج نے لبنان کے مشرقی شہر بعلیک جانے والے دو ایسے ٹرکوں کا تباہ کر دیا ہے جو راکٹ لے کر جا رہے تھے۔ اسرائیل نے اسلحے کا ایک ڈپو ختم کردینے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی بمباری شروع ہونے کی وجہ سے کئی ہزار لوگ جنوبی لبنان سے شمال کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ کچھ دیہات مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ ادھر امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزار رائس مشرق وسطیٰ پہنچ رہی ہیں تاکہ امن کی کوششوں کو تیز کیا جا سکے۔ اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور اس کے قبضے سے دو اسرائیلی فوجیوں کو رہا نہیں کرا لیا جاتا، لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہیں گے۔
پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے، جسے ٹیلی وژن پر بھی دکھایا گیا، اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مطالبات تسلیم ہونے تک لبنان کے خلاف حملے جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی فوج کو ملک کے جنوبی حصے پر اپنا کنٹرول قائم کرنا ہوگا۔ ’ہم جنگ یا براہِ راست کشمکش نہیں چاہتے لیکن اگر یہ ضروری ہوا تو ہم اس سے ڈریں گے نہیں۔‘ گزشہ چھ دنوں میں دو سو کے قریب لبنانی شہری اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ادھر حزب اللہ نے اسرائیل میں اب تک سیکنڑوں راکٹ داغے ہیں جن سے بارہ افراد مارے گئے ہیں۔ پیر کو اسرائیل پر حزب اللہ کی جانب سے پھر راکٹ داغے گئے اور حکام کے مطابق ان میں سے ایک ہسپتال کے قریب گرا جس سے چھ افراد زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا: ’اسرائیل کے پاس ان لوگوں کے لیئے رحم نہیں جنہوں نے ہمارے شہروں پر راکٹوں سے حملے کیئے ہیں۔ ہم اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے پوری طاقت استعمال کریں گے۔‘ انہوں نے اسرائیلی مقاصد کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ اس کے دو فوجی رہا کیئے جائیں، شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے ختم کیئے جائیں، جنوبی لبنان سے حزب اللہ کو ہٹایا جائے اور وہاں لبنانی فوج تعینات کی جائے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینڈ گلیمین نے کہا کہ موجود بحران خطے سے بقول ان کے حزب اللہ کے کینسر کو پاک کرنے کا ایک موقع ہے۔
اس سے قبل پیر کو اسرائیل نے لبنان پر ایک اور میزائل حملہ کیا تھا جس میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ لوگ ملک کے جنوب سے بیروت کی جانب سفر میں تھے اور حملے کے وقت ایک پل سے گزر رہے تھے۔ ادھر حزب اللہ کے ایک ترجمان حسین نابلسی نے اسرائیلی مطالبات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایہود اولمرت کے دل میں مئی سن دوہزار کا کینہ ہے جب حزب اللہ نے اسرائیلیوں کو شکست دی تھی اور انہیں جنوبی لبنان چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ اب وہ انتقام لینا چاہتے ہیں۔ دو سپاہیوں کو چھڑانے کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔
پیر کے روز اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملے جاری رکھے تھے اور بیروت کے ارد گرد کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔ پیر کواسرائیل کے حملوں میں چالیس سے زیادہ لبنانی ہلاک ہوئے جن میں سے دس ایسے افراد بھی تھے جو دارالحکومت بیروت جانے کے لۓ ایک پل پر گزر رہے تھے اور اسرائیلی میزائل ان پر آکر گرا۔ ان کے علاوہ شمالی لبنان میں فوجی اڈوں، مشرق کے شہر بعلبک اور بیروت کے کچھ علاقوں کو بھی اسرائیلیوں نے نشانہ بنایا۔ اسرائیل فوج کہتی ہے کہ پیر کوحزب اللہ نے کم سے کم اسّی میزائل اس کی زمین پر مارے۔ رات گۓ میزائلوں کی ایک باڑ حزب اللہ نے چلائی جو پندرہ اسرائیلی قصبوں اور شہروں پر جاکر لگے۔ ان میں سے ایک راکٹ ایک قصبے سفید کے ہسپتال کے پاس گرا اور کم سے کم پندرہ افراد زخمی ہوئے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حیفہ پر بھی راکٹ گرے ہیں جن سے کم سے کم تین افراد زخمی ہوئے۔
جنوبی لبنان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بھاگ رہے ہیں۔ کچھ دیہات بالکل خالی ہو چکے ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ شمال کی طرف جانے والی سڑکیں گاڑیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ہنگامی امداد کے اقوام متحدہ کے ادارے کے انچارج یان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ حالات بہت خراب ہوچکے ہیں اور ہرگھنٹے خراب تر ہورہے ہیں۔ ’انسانوں کے ہاتھوں پیدا کردہ اس بحران کو وہی لوگ روک سکتے ہیں جو اسے روکنے کے لائق ہیں۔ انہیں پانی، بجلی، وغیرہ کی تنصیبات تباہ کرنے سے پہلے سوچنا چاہۓ کہ آگے چل کر بیماریوں کی صورت میں کیسی تباہی پھیلے گی۔‘ یورپی یونین نے لڑائی بند کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے پورا علاقہ خطرے میں گھر گیا ہے۔ یورپی یونین نے حزب اللہ کے حملوں کی مذمت کی ہے اور اسرائیل سے کہا ہے کہ ضبط اور تحمل سے کام لے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے وہ علاقے کا دورہ کریں گی لیکن یہ نہیں بتایا کہ کب۔ سلامتی کونسل نے ایک بار پھر اپنے اجلاس میں صورت حال پر غور کیا لیکن کسی اقدام سے پہلے وہ اقوام متحدہ کے ایلچیوں کی واپسی کا انتظار کررہی ہے۔
ان ہلاکتوں سے اسرائیل کے تازہ ترین حملوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مرنے والوں کی تعداد تیس سے زائد ہوگئی ہے۔ بعض ناقابل اشاعت تصاویر میں سڑکوں پر یا ملبے کے نیچے جلی ہوئی اور کٹھی پھٹی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں کے خاتمے کے لیئے بین الاقوامی فوج لبنان بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ’یہ فوج اسرائیل پر ہونے والی گولہ باری روک سکتی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کے حزب اللہ پر جاری حملے بند کروانے کا جواز پیدا ہو سکتا ہے‘۔
اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف لبنان میں اپنی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے اتوار کی رات اور پیر کو بیروت کے علاوہ شمالی لبنان کے شہر تریپولی اور مشرقی شہر بالبیک پر فضائی حملے کیئے۔ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے اتوار کو کہا تھا کہ لبنان کے خلاف کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بقول ان کے اسرائیل کی شمالی سرحد کی ’حقیقت بدل نہیں جاتی۔‘ | اسی بارے میں اسرائیل کا تازہ حملہ: دس ہلاک17 July, 2006 | آس پاس مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس لبنان پر مزید اسرائیلی بمباری14 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس بیروت ہوائی اڈے پر اسرائیل کا حملہ13 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||