لبنان میں لڑائی بند ہونی چاہیے: عنان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نےلبنان میں فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کوفی عنان نے حزب اللہ کی طرف سے لڑائی شروع کرنے کی مذمت کی۔ سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کو’ ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ کوفی عنان نے کہا جنگ بندی کی غیر موجودگی میں امداد پہنچانے کے راستے کھلے رہنا ضروری ہیں۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ایہود اولمرت نے لبنان میں امداد پہنچانے کے راستے کھلنے رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔ کوفی عنان نے کہا کہ جنگ بندی کر کے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیےتاکہ وہ بحران کو کوئی پرامن حل نکالا جا سکے۔ نو دن کی لڑائی میں ابتک تین سو سے زائد لبنانی اور انتیس کے قریب اسرائیل ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں طرف سے زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں پانچ لاکھ کے قریب افراد بےگھر بھی ہو گئے ہیں۔ امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تنازع تباہ کن انسانی المیہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا ائے نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل قتلِ عام کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپ جاری ہے۔ ایک اسرائیلی ترجمان کے مطابق ایک اسرائیلی گاؤں اویوم کے شمال میں بھی لڑائی جاری ہے۔ حزب اللہ نے جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے دو اسرائیلی ٹینک تباہ کر دیئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے مگر کہا ہے کہ اس کے تین سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کےہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر ژان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ عام لوگوں کے درد کو محسوس کر رہے ہیں۔ ژان ایگیلنڈ کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ایک تہائی بچے ہیں۔ دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور ناروے کے ایک ہزار سے قریب شہریوں کو بحری جہاز کے ذریعے قبرص پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی سینکڑوں غیر ملکی باشندے لبنان میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے ساحلی علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ لبنانی وزیرِ اعظم کی جانب سےامن کی اپیل تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد آئی جس میں کم سے کم پچاس لبنانی شہری ہلاک ہوئے۔ ملک کے جنوب میں حزب اللہ چھاپہ ماروں اور اسرائیلی بری فوج کے درمیان بھی گھمسان کی لڑائی ہوئی جس میں دو اسرائیلی فوجیوں مارے گئے۔
اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ نےگھروں میں میزائل چھپا رکھے ہیں۔’ ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یا تو میزائل پھینک دو، یا گھر چھوڑ دو، ہم بیٹھ کر ان میزائلوں کو اسرائیل پر داغے جانے کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘ یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ سینکڑوں یورپی باشندوں کو قبرص پہنچایا جاچکا ہے۔ ایک برطانوی بحری جہاز اپنے 180 باشندوں کو لے کر بیروت سے روانہ ہوگیا ہے۔ اگلے چند روز میں 5000 برطانوی شہریوں کا انخلاء متوقع ہے۔ امریکہ کا کہنا کہ اس کے تین سو سے زیادہ باشندوں کو نکالا جائے گا، اس کے بعد روزانہ ایک ہزار امریکیوں کو بحفاظت نکالا جائے گا۔
ناروے کا ایک بحری جہاز ناروے، سویڈن اور امریکہ کے سینکڑوں باشندوں کو پہلے ہی قبرص لے جاچکا ہے۔ مزید امریکیوں اور آسٹریلوی شہریوں کے انخلاء کے انتظامات مکمل ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی ٹینک بدھ کو غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوگئے۔ اس کارروائی میں نو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 سے زائد زخمی ہیں۔
|
اسی بارے میں تازہ اسرائیلی حملے، ’تئیس ہلاک‘ 16 July, 2006 | آس پاس حیفہ پر راکٹ حملے، نو ہلاک16 July, 2006 | آس پاس تباہی کے کچھ مناظر: وڈیو16 July, 2006 | آس پاس لبنان کے شمال اور مشرق میں حملے16 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق16 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||