BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان میں لڑائی بند ہونی چاہیے: عنان
لبنان کے وزیرِاعظم نے پھر امن کی اپیل کی ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا لبنانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نےلبنان میں فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

کوفی عنان نے حزب اللہ کی طرف سے لڑائی شروع کرنے کی مذمت کی۔ سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کو’ ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔


کوفی عنان نے کہا جنگ بندی کی غیر موجودگی میں امداد پہنچانے کے راستے کھلے رہنا ضروری ہیں۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ایہود اولمرت نے لبنان میں امداد پہنچانے کے راستے کھلنے رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

کوفی عنان نے کہا کہ جنگ بندی کر کے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیےتاکہ وہ بحران کو کوئی پرامن حل نکالا جا سکے۔

نو دن کی لڑائی میں ابتک تین سو سے زائد لبنانی اور انتیس کے قریب اسرائیل ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں طرف سے زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں پانچ لاکھ کے قریب افراد بےگھر بھی ہو گئے ہیں۔

امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تنازع تباہ کن انسانی المیہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا ائے نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل قتلِ عام کر رہا ہے۔

اسرائیلی فوجی
اسرائیلی فوجی لبنان پر گولے برسانے سے قبل تورات پڑھ رہے ہیں

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپ جاری ہے۔ ایک اسرائیلی ترجمان کے مطابق ایک اسرائیلی گاؤں اویوم کے شمال میں بھی لڑائی جاری ہے۔

حزب اللہ نے جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے دو اسرائیلی ٹینک تباہ کر دیئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے مگر کہا ہے کہ اس کے تین سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کی نصف شب کواسرائیلی طیاروں نےحزب اللہ کے رہنماؤں کی پناہ گاہ قرار پر تئیس ٹن وزنی بم گرائے۔ تاہم حزب اللہ کے ٹیلی وژن کا دعوٰی ہے کہ تنظیم کا کوئی بھی رہنما ہلاک نہیں ہوا اور اسرائیلی بم ایک خالی مسجد پر گرے۔
اسرائیل کی بمباری سے لبنان تباہی کا ایک منظر پیش کر رہا ہے

اقوامِ متحدہ کےہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر ژان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ عام لوگوں کے درد کو محسوس کر رہے ہیں۔ ژان ایگیلنڈ کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ایک تہائی بچے ہیں۔

دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور ناروے کے ایک ہزار سے قریب شہریوں کو بحری جہاز کے ذریعے قبرص پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی سینکڑوں غیر ملکی باشندے لبنان میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے ساحلی علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

لبنانی وزیرِ اعظم کی جانب سےامن کی اپیل تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد آئی جس میں کم سے کم پچاس لبنانی شہری ہلاک ہوئے۔ ملک کے جنوب میں حزب اللہ چھاپہ ماروں اور اسرائیلی بری فوج کے درمیان بھی گھمسان کی لڑائی ہوئی جس میں دو اسرائیلی فوجیوں مارے گئے۔

پوری دنیا نے اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کہا ہے کہ یہ خیال کہ جنگ بندی سے مسئلہ حل ہو جائے گا، درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’ کیا کوئی اس بات پر روشنی ڈالے گا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جنگ بندی کیسے کی جائے۔ مجھے کوئی بتائے کہ کب ماضی میں کسی ملک اور کسی دہشت گرد تنظیم کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ یہ مختلف حالات ہیں اور ان میں روایتی سوچ کام نہیں کرے گی۔‘

اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ نےگھروں میں میزائل چھپا رکھے ہیں۔’ ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یا تو میزائل پھینک دو، یا گھر چھوڑ دو، ہم بیٹھ کر ان میزائلوں کو اسرائیل پر داغے جانے کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘

یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔

سینکڑوں یورپی باشندوں کو قبرص پہنچایا جاچکا ہے۔ ایک برطانوی بحری جہاز اپنے 180 باشندوں کو لے کر بیروت سے روانہ ہوگیا ہے۔ اگلے چند روز میں 5000 برطانوی شہریوں کا انخلاء متوقع ہے۔ امریکہ کا کہنا کہ اس کے تین سو سے زیادہ باشندوں کو نکالا جائے گا، اس کے بعد روزانہ ایک ہزار امریکیوں کو بحفاظت نکالا جائے گا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی

ناروے کا ایک بحری جہاز ناروے، سویڈن اور امریکہ کے سینکڑوں باشندوں کو پہلے ہی قبرص لے جاچکا ہے۔ مزید امریکیوں اور آسٹریلوی شہریوں کے انخلاء کے انتظامات مکمل ہیں۔

اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی ٹینک بدھ کو غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوگئے۔ اس کارروائی میں نو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 سے زائد زخمی ہیں۔


حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد