BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان پر زمینی حملے کی تیاریاں
ریڈ کراس کے مطابق سات لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں
اسرائیل نے لبنان کے اندر بڑی زمینی کارروائی کے لیے ہزاروں ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا ہے۔اسرائیل نے دس روز کے فضائی حملوں کے بعد لبنان میں زمینی کارروائی کے لیے اپنی فوج سرحد پر جمع کر لی ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جلد سے جلد علاقے سے نکل جائیں۔اسرائیل کے فوجی پہلے ہی لبنان کی سرحد کو عبور کر کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔

جنوبی لبنان کے شہر طائر سے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ علاقے میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

دریں اثنا حزب اللہ نے اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر ہیفا پر راکٹ فائر کیے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع عامر پیرز نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو اگر ضرورت محسوس کی تو وہ لبنان میں بڑا حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا لبنان کو فتح کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور اس کا مقصد لبنانی سر زمین سے اسرائیل پر ہونے والے حملے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کرنا ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایسے پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل ان علاقوں پر زبردست بمباری کرے جہاں سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ فائر کیے جاتے ہیں۔

ادھر لبنان کے وزیر دفاع الیاس مّر نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کی زمینی افواج لبنان میں داخل ہوئیں تو لبنانی فوج ان کا مقابلہ کرے گی۔

لبنانی وزیر دفاع نے کہا کہ لبنانی فوجی اسرائیل سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ لبنان کا دفاع کرئے لیکن وہ حزب اللہ کے شانہ بشانہ لڑنا نہیں چاہتے۔

اسرائیلی فوج لبنان میں زمینی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

لبنانی وزیر دفاع نے کہا کہ اگرچہ ان کی فوج اسرائیلی فوج سے طاقت کے مقابلے میں کم ہے لیکن وہ متحد ہیں اور آخری دم تک لڑے گی۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حزب اللہ کے میزائل لبنانی فوج کے پاس ہونے چاہیے تھے۔

اسرائیل نےجمعہ کے روز بھی لبنان پر حملے جاری رکھے جن کے دوران اس کی فضائیہ نے جنوبی بیروت میں مقامات کو بموں کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جمعرات کو حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اس کے چار فوجی مارے گئے ہیں۔ ان حملوں میں حزب اللہ کے جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری کارروائیوں کا نشانہ مخصوص مقامات ہیں اور ان کارروائیوں میں ایک ہزار سے کچھ زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیئے ہزاروں فوجی پہلے سے ہی تعینات کیے جا چکے تھے۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے اس کا ایک افسر اس وقت مارا گیا جب دو فوجی ہیلی کاپٹر لبنانی سرحد کے قریب آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو گئے۔


ادھرحز ب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا ہے اسرائیلی حملوں سے تنظیم کی قیادت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور یہ کہ مقید اسرائیلی فوجیوں کو صرف قیدیوں کے تبادلے میں ہی رہائی مل سکتی ہے۔

طائر سے ہمارے نامہ نگار نے مزید بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں لوگ شدید مشکلات میں ہیں۔ علاقے میں سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں جس سے گاؤں کٹ کر رہ گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا

لبنان کے مذکورہ علاقے کے صدر مقام سیدان سے بی بی سی کے ایک دوسرے نامہ نگار راجر ہیرنگ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں متاثرہ مقامات سے تقریباً اٹھائیس ہزار افراد پناہ کی تلاش میں ایک ساحلی مقام پر جمع ہو چکے ہیں اور اس جگہ لوگوں کی شدید بھیڑ ہو چکی ہے۔

سیدان کے مئیر عبد الرحمٰن بزری نے خبردار کیا ہے کہ خوراک، ادویات، پانی اور سر چھپانے کی جگہ کی قلت ہونا شروع ہو گئی ہے۔

ادھر لبنان کے وزیراعظم فواد سینورا نے کہا ہے کہ گزشتہ دس روز میں ہلاک ہونے والے لبنانیوں کی تعداد تین سو تیس سے زائد ہے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں سےاب تک پچپن پل تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بقول اسرائیلی فوجوں نے ایمبولینس گاڑیوں اور طبی عملے کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ’یہ حملہ اب صرف حزب اللہ کے خلاف نہیں رہا، یہ حملہ لبنان اور لبنانیوں پر ہے۔‘

یاد رہے کہ جمعرات کو عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ان دو اسرائیلی فوجیوں کو رہا نہیں کر سکتی جو ان کی قبضے میں ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کے ان دعوؤں کو رد کر دیا جن کے مطابق حزب اللہ کی آدھی قیادت کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے لبنان میں فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے کوفی عنان کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔کوفی عنان نےلبنان کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کرنے حزب اللہ کی مذمت کی لیکن انہوں نے اسرئیل کو بھی ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

دریں اثناء اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز غزہ میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جن کے دوران فلسطینی حکمران جماعت حماس کے ایک رکن اور ان کے کم از کم تین عزیزوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کے مطابق یہ لوگ غزہ شہر میں جمعہ کی صبح اسرائیلی ٹینکوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔

حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد