علاقے سے جائیں تو جائیں کیسے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے باشندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنےگھر بار چھوڑ کر علاقے سے چلے جائیں اور ہزاروں لبنانی خاندان اس حکم کو ماننے پر مجبور ہیں۔ تاہم لبنان کے جنوبی شہر طائر پر اسرائیلی حملے اتنے تواتر سے جاری ہیں کہ محفوظ علاقوں کی جانب سفر بہت سے رہائشیوں کے لیئے ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔ سیدون کے شمال میں پُلوں پر اسرائیلی بمباری نے لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پہاڑی راستے اختیار کریں۔ اسرائیل کے لیزرگائیڈڈ بموں نے مرکزی شاہراہ پر بھی بڑے بڑے گڑھے بنا دیئے ہیں اور ذاتی کاروں اور ٹیکسیوں میں سفر کرنے والے افراد اب اندرونی راستے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ سڑکوں کی تباہی سے طائر میں داخلے کا کوئی راستہ سلامت نہیں اور اس علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیئے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے افراد اور ادارے بےبس ہیں۔ راستوں کی تباہی اور بندش سے لوگ برہم ہیں کیونکہ وہ جلد از جلد اپنے ان عزیزوں تک پہنچنا چاہتے ہیں جو شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
طائر سے پانچ میل دور درجنوں گاڑیوں کا ایک قافلہ طائر اور سیدون کےد رمیان واقع دریائے لیتانی کو عبور کرنے کا منتطر ہے۔ جیسے ہی ٹریفک نے دھول اور گرد کے درمیان سفر شروع کیا کار سواروں کو دو اسرائیلی طیاروں کی آوازیں سنائی دیں جو قریبی وادی پر حملہ کرنے کے لیئے آئے تھے۔ چند لمحے بعد افق پر سرمئی دھواں اٹھتا دکھائی دیا جس کے ساتھ ہی اس قافلے کے مسافروں میں مزید بےچینی پھیل گئی۔ کیا تم برطانوی ہو؟ یہ سوال مجھ سے اس ڈرائیور نے کیا جس کی تباہ حال مرسیڈیز میں سوار بچوں کی تصویر میں لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری تصدیق پر وہ بولا کہ’ ٹونی بلیئر سے کہو یہ سب بند کرے‘۔ جب دھوئیں کے بادل چھٹے تو گاڑیوں نے شمال کی جانب سفر شروع کیا اور مجھے لگا کہ کتنے کم وقت میں جنوبی لبنان کی ٹریفک غربِ اردن کے علاقے کی ٹریفک سے متماثل ہوگئی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کچھ شہریوں کو ہلاکت سے بچانے کے لیئے کر رہا ہے اور اس کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک حزب اللہ گیارہ روز قبل پکڑے جانے والے اسرائیلی فوجی رہا نہیں کرتی اور اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بند نہیں کر دیا جاتا۔ ان دونوں صورتوں کا امکان موجودہ حالات میں کم ہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں افراد شمال کو جانے والے راستوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ہفتے کو ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد لبنانیوں کے انخلاء کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہے۔ قانا سے بھاگ کر طائر کے ایمرجنسی پوائنٹ پر پہنچنے والے ایک شخص کا کہنا تھا کہ’میں اپنے بچوں کو اس آفت سے دور لے جانا چاہتا ہوں۔ وہ بمباری سے بہت خوفزدہ ہیں اور ہم تبھی جا سکتے ہیں جب تھوڑی خاموشی ہو‘۔ |
اسی بارے میں امریکہ اسلحہ جلد پہنچائے: اسرائیل23 July, 2006 | آس پاس ’حزب اللہ، ایران، شام ذمہ دار ہیں‘22 July, 2006 | آس پاس لبنان کے مواصلاتی نظام پر حملے22 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کی بیروت اورسیدون پر بمباری22 July, 2006 | آس پاس فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس22 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||