لڑائی خطرناک موڑ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں لڑائی ایک خطرناک موڑ پر آگئی ہے جس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ کیا دونوں اسرائیل اور حزب اللہ اس لڑائی میں توقع سے زیادہ پھنس رہے ہیں اور کیا دونوں کے پاس اس لڑائی کو ختم کرنے کے لئیے کوئی راستہ موجود ہے۔ ایک خیال ہے کہ اسرائیل کے حملوں کی شدت حزب اللہ کی توقع سے زیادہ تھی اور دوسری جانب اسرائیل حزب اللہ کی طاقت میں بارے غلط اندازے لگاتا آیا ہے اور لگا رہا ہے۔ دونوں کی اس غلط فہمی کی وجہ سے یہ لڑائی اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل حزب اللہ کی فوجی طاقت کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے کرنے سے روکا جا سکے۔لیکن اسرائیل کے فضائی حملے حزب اللہ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا پائے ہیں۔ اور اس لیئے اب اسرائیل زمینی حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک بفر زون بنایا جائے اور اور حزب اللہ کے ٹھکانوں اور سرنگوں کو تباہ کیا جائے تاکہ حزب االلہ کے راکٹوں کو شمالی اسرائیل کے شہروں میں جانے سے روکا جا سکے۔لیکن ایسا کرنے میں اسرائیل کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دفاعی تجزیہ نگار انتھونی کورڈزمین کہتے ہیں مشکل یہ ہے کہ اگر اسرائیل اپنی فوج زمینی حملے کے لیئے جنوبی لبنان بھیجتا ہے تو وہ ایک ایسے علاقے میں داخل ہو گا جہاں بھاری آبادی ہے اور حزب اللہ پھر سے یکجا ہو کر اسرائیل پر گوریلا حملے کر سکتا ہے جس میں وہ ماہر مانا جاتا ہے۔اب حزب اللہ کے پاس جدید اسلحہ بھی ہے جس میں انٹی ٹینک گولے اور بم شامل ہیں۔ کورڈزمین کے مطابق اسرائیل کے لیئے ہدف یہ ہے کہ وہ حزب اللہ کے راکٹوں کو روکے۔ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو حزب اللہ کے پاس 12000 راکٹ تھے اور اس جنگ کے پہلے ہفتے ہیں حزب اللہ نے تقریباً ہر روز سو راکٹ داغے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سے لگتا نہیں کہ اسرائیل حزب اللہ کو کوئی خاص نقصان پہنچا سکا ہے۔ حزب اللہ کے ٹی وی سٹیشن کو اسرائیل نے تباہ کرنے کوشش کی مگر وہاں سے اب بھی جنگی نغمے نشر ہو رہے ہیں اور ٹی وی سٹیشن کی طرح حزب اللہ بھی اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ حزب اللہ کہ بارے میں چیٹم ہاؤس کے ندیم شاہیدی کہتے ہیں کہ ’حزب اللہ نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیلی آرمی نا قابل فتح نہیں اور اسرائیل کمزور ہے۔ انہوں نے دنیا کی، عالم عرب کی اور لبنانی حکومت کی بذدلی کو آشکار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ نہیں کرسکتے جیسا کہ غزہ میں پچھلے تین ہفتوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ حزب اللہ واحد گروہ ہے جو اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کر سکتا ہے‘۔ | اسی بارے میں اسرائیل: لبنان میں زمینی آپریشن کیوں؟22 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی کارروائی کی مذمت22 July, 2006 | آس پاس فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس22 July, 2006 | آس پاس اسرائیل مخالف احتجاجی ریلیاں22 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||