BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 15:33 GMT 20:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی کارروائی کی مذمت
 کم ہاویلز
’فوری طور پر لڑائی روکنے کا مطالبہ بے معنی ہوگا‘
برطانیہ کی وزارت خارجہ کے وزیر کم ہاویلز نے بیروت کے دورے کے دوران اسرائیلی بمباری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کارروائی باریکی سے نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی قوم کو نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔


ہاویلز کا رد عمل برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ کے بیان سے متضاد ہے جنہوں نے آغاز ہفتہ اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بیکٹ نے کہا تھا کہ انہوں نے حزب اللہ پر تنقید کی تھی لیکن ارکان پارلیمان کے مطالبے پر اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرنا زیادہ موثر نہیں ہوگا۔

ہاویلزنے کہا کہ لڑائی کے تمام فریقوں سے بات چیت کی کوشش جاری ہے اور یہ کہ فوری طور پر لڑائی روکنے کا مطالبہ ’بے معنی‘ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں امریکیوں کو اندازہ ہوگا کہ لبنان میں کیا ہو رہا ہے۔ عمارات، سڑکوں اور پلوں کی تباہی اور بڑی تعداد میں بچوں اور بڑوں کی ہلاکت۔ یہ کارروائیاں دھیان سے نہیں کی گئیں اور میرے خیال میں یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ کس طرح فوجی حکمت عملی اپنائی گئی تھی‘۔

’اگر وہ حزب اللہ کا پیچھا کر رہے ہیں تو پھر حزب اللہ کے پیچھے جائیں۔ آپ پوری لبنانی قوم کو نشانہ نہیں بنا سکتے‘۔

دریں اثناء برطانیہ میں ہزاروں افراد لبنان پر اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ مسلم ایسوسی ایشن آف برِٹن اور سٹاپ دی وار کو ایلیشن جیسی تنظیموں نے بارہ ریلیاں منعقد کیں۔

 اگر وہ حزب اللہ کا پیچھا کر رہے ہیں تو پھر حزب اللہ کے پیچھے جائیں۔ آپ پوری لبنانی قوم کو نشانہ نہیں بنا سکتے
کِم ہاویلز
اس کے علاوہ قاہرہ میں فرانس کے وزیر خارجہ نے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ لڑائی لبنانی ریاست کی بربادی کا باعث بن سکتی ہے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹائنمر مصر اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا تھا کہ مشرق وسطٰی میں فوری فائر بندی کی کوئی صورت نہیں ہے اور ایسا کہنا جھوٹا وعدہ کرنےکے مترادف ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سب سے پہلے تشدد کی بنیادی وجہ سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے جو ان کے خیال میں ’جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی ہے‘۔ رائس کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایک نئے مشرق وسطٰی کے وجود میں آنے کی شروعات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع سے قبل علاقے کی صورتحال کے استحکام کا کوئی امکان نہیں تھا۔

رائس اتوار کو مشرق وسطٰی کا دورہ کریں گی۔ روم میں ایک کانفرنس میں شرکت سے قبل وہ اسرائیل جائیں گی۔ روم میں کونڈولیزا رائس یورپی اور عرب رہنماؤں سے بات چیت کریں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد