BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل: لبنان میں زمینی آپریشن کیوں؟

زمینی آپریشن کے لیے سرحد پر جمع ہوتے ہوئے اسرائیلی فوجی
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن کی توسیع کی تیاریاں کررہا ہے تاکہ ایک قسم کا بفر زون بناسکے۔ اس نے اسی طرح کی کارروائی 1978 میں بھی بیس کلومیٹر شمال میں لیتانی دریا کے کنارے تک کی تھی۔

اس سے یہ بات بھی ابھر رہی ہے کہ اسرائیل کو زمینی افواج لبنان میں بھیجنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ وہ اپنی فضائی قوت لبنان میں ایک حد تک ہی استعمال کرسکتا ہے۔

عراق پر دو جنگوں کے دوران امریکی فضائیہ کی تیارکردہ حکمت عملی کی ایک قسم کا استعمال اسرائیل نے بیروت میں اور شام کی سرحد پر حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے کرلیا ہے۔

اس کے فضائی حملوں کا مقصد میزائلوں اور اسلحہ کے ڈپو اور ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کا اثر یہ بھی ہوا ہے کہ بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے اور سویلین ہلاکتیں پیش آئیں۔

جنوبی لبنان میں اب جو سویلین بچ گئے ہیں ان کو نئی وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ باہر نکل جائیں، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سویلین وہاں سے جلدی سے کیسے نکلیں گے کیوں کہ سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔

حقوق انسانی کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ شہریوں کو لڑائی والے علاقوں سے نکلنے کے محفوظ راستے فراہم کرے۔

عالمی قوانین اور شہری
 اسرائیل لوگوں کو حملوں سے قبل وارننگ دے، لیکن اس وارننگ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں جو سولین بچ گئے ان کو نشانہ بنایا جائے۔ سویلین جو وہاں سے نہیں نکل سکتے انہیں بین الاقوامی قانون کا تحفظ حاصل ہے۔
ہیومن رائٹس واچ
مشرق وسطیٰ کے امور سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کی ڈائرکٹر سارہ لی وہِٹسن نے کہا: ’اسرائیل لوگوں کو حملوں سے قبل وارننگ دے، لیکن اس وارننگ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں جو سولین بچ گئے ان کو نشانہ بنایا جائے۔ سویلین جو وہاں سے نہیں نکل سکتے انہیں بین الاقوامی قانون کا تحفظ حاصل ہے۔‘

غیرمکمل مقاصد
لبنان میں زمینی کارروائی کی بات سے ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کی طاقت کو تباہ کرنے کے اپنے اعلان کردہ مقاصد سے دور ہے۔ نو دن کی لڑائی کے بعد اسرائیل ابھی بھی لبنان میں اسی علاقے پر بمباری کررہا ہے جسے اسرائیل کے شمالی سرحد سے دیکھا جاسکتا ہے۔

جمعرات کو یہاں حزب اللہ کے ایک حملے میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ بریگڈیئر جنرل الون فریڈمین نے اسرائیلی اخبار ماریو کو بتایا: ’یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ہماری زمینی کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔‘ لہذا اب ایسا لگتا ہے کہ یہ لڑائی اگلے ہفتے بھی جاری رہے گی۔

ناہموار پہاڑیاں
جنوبی لبنان کی زمین کے بارے میں کچھ ذکر یہاں اہم ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوگا کہ زمینی افواج اہم کیوں ہیں۔

یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور چٹانوں کی تشکیل کچھ ایسے ہوئی ہے جس سے متعدد غار وجود میں آئے۔ ان غاروں میں پہلے فلسطینی جنجگو پناہ لیتے تھے اور اب وہاں حزب اللہ کے جنگجو رہتے ہیں۔

اس علاقے میں راستے ناہموار ہیں جو گوریلا جنجگؤں کے لیے تو اچھے ہیں لیکن ان پر اسرائیلی ٹینک اور دیگر مسلح فورسز آسانی سے نہیں چل سکتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجیوں کو ٹینکوں سے نکل کر لڑنا پڑے گا۔

مغربی ممالک نے اپنے شہری واپس نکال لیے ہیں
اس کے نتیجے میں انہیں مقامی لبنانی جنگجوؤں کے حملوں کا نشانہ بننا پڑے گا، جو ان پہاڑیوں کے راستوں کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ ہیں۔ اسرائیل کو اب تک کی محدود لڑائی میں پہلے ہی نقصانات کا سامنا رہا ہے۔

حزب اللہ کی تیاریاں
چونکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں داخل ہونے میں دیر کی ہے، اس لیے حزب اللہ کی فورسز کو اس علاقے میں داخل ہوکر تیاریاں کرنے اور پوزیشن سنبھالنے کا موقع مل گیا ہے۔

حزب اللہ کی اہم طاقت میزائلیں ہوسکتی ہیں لیکن اس کے جنگجو بھی تیار ہیں اور اب ان کو مواقع ملنے کا وقت آگیا ہے۔ دریں اثناء ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنے کچھ راکٹوں پیچھے ہٹالیے ہیں اور محفوظ مقامات پر رکھا ہے تاکہ انہیں بفر جون پر فائر کیا جاسکے۔

یہ بھی ناممکن نہیں ہے کہ لبنانی فوج کے کچھ عناصر اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کریں، اگرچہ جنوبی علاقوں میں لبنان کے فوجی کم ہی ہیں اور ان کی تعداد چند سو ہوسکتی ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں کچھ فورسز کے ساتھ داخل ہوئے بغیر کیسے اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ کئی مبصرین پہلے سے ہی امید کررہے تھے کہ اسرائیل زمینی افواج بھیجنے کے حق میں فیصلہ کرے گا۔

لیتانی آپریشن
سن 1978 میں پچیس ہزار اسرائیلی فوجی برق رفتاری سے لبنان میں دس کلومیٹر تک گھس گئے تھے اور پھر لیتانی دریا تک پہنچے۔

اس لڑائی میں ان کا مقصد فلسطینی جنگجوؤں کو وہاں سے ہٹانا تھا۔ بعد میں انہوں نے اپنی فوجیں واپس ہٹالیں اور ایک بفر زون قائم کیا جسے وہ سکیورٹی زون کہتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک کرسچین ملیشیا قائم کی تاکہ وہ اس علاقے میں پولیس کا کام کرسکے۔

لیتانی آپریشن
 سن 2000 میں اسرائیل فوج کو لبنان چھوڑنا پڑا، اس امید میں کہ وہاں لبنان فوج تعینات ہوجائے گی۔ تاہم اس وقت اسرائیل فوج کو یہ خدشہ بھی تھا کہ اس کی واپسی پر حزب اللہ کے جنگجو اس علاقے پر قبضہ کرلیں گے۔
لیکن یہ منصوبہ ناکام رہا اور سن 2000 میں اسرائیل فوج کو لبنان چھوڑنا پڑا، اس امید میں کہ وہاں لبنان فوج تعینات ہوجائے گی۔ تاہم اس وقت اسرائیل فوج کو یہ خدشہ بھی تھا کہ اس کی واپسی پر حزب اللہ کے جنگجو اس علاقے پر قبضہ کرلیں گے۔

سفارتی تیاریاں
سن 1982 میں اسرائیلی فوج بیروت تک جا پہنچی تھی۔

اس لیے جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے اگر اسرائیل بفر زون قائم کرتا ہے تو وہاں کتنا دن رہے گا؟ اسرائیلیوں کے لیے وہاں گھس جانا آسان ہے کیوں کہ وہ نقصانات اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، لیکن کتنی جلدی وہ واپس جانا چاہیں گے؟

اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ وہاں ٹھہرنا نہیں چاہتے لیکن ارادے اور اقدامات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے سفارت کاری کی ضرورت پیش آتی ہے جو اب تک مؤثر نہیں ثابت ہوئی ہے۔

امریکی اسرائیلیوں کے اس مطالبے کی حمایت کررہے ہیں کہ موجودہ لڑائی سے واپس پھر اسی حالت میں نہیں جایا جاسکتا جب حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب دیکھنے والے واچ ٹاور قائم کر رکھے ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک فائربندی نہیں ہوسکتی جب تک اس علاقے میں طاقت اور اثر و رسوخ کے بیلنس میں ایک بڑے پیمانے پر تبدیلی نہیں آجاتی۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کررہی ہیں، سفارتی سطح پر کچھ شروع تو ہورہا ہے لیکن کافی سست روی کے ساتھ۔

 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
اسرائیل کا مقصد؟
لبنان پر حملوں سے اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
لبنان: تباہی، انخلاء
چہروں پر جھلکتا خوف
لبنانی بچہاسرائیلی بمباری
سات لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں: ریڈ کراس
اسرائیلی لابی کا اثر
امریکہ میں اسرائیل کے حق میں مظاہرے
اسرائیل، حزب اللہشاعرانہ سفارتکاری
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ پر بحث
وویک نے کیا دیکھا
بی بی سی کے وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد