اسرائیل: لبنان میں زمینی آپریشن کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن کی توسیع کی تیاریاں کررہا ہے تاکہ ایک قسم کا بفر زون بناسکے۔ اس نے اسی طرح کی کارروائی 1978 میں بھی بیس کلومیٹر شمال میں لیتانی دریا کے کنارے تک کی تھی۔ اس سے یہ بات بھی ابھر رہی ہے کہ اسرائیل کو زمینی افواج لبنان میں بھیجنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ وہ اپنی فضائی قوت لبنان میں ایک حد تک ہی استعمال کرسکتا ہے۔ عراق پر دو جنگوں کے دوران امریکی فضائیہ کی تیارکردہ حکمت عملی کی ایک قسم کا استعمال اسرائیل نے بیروت میں اور شام کی سرحد پر حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے کرلیا ہے۔ اس کے فضائی حملوں کا مقصد میزائلوں اور اسلحہ کے ڈپو اور ٹرانسپورٹ کے ذرائع کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کا اثر یہ بھی ہوا ہے کہ بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے اور سویلین ہلاکتیں پیش آئیں۔ جنوبی لبنان میں اب جو سویلین بچ گئے ہیں ان کو نئی وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ باہر نکل جائیں، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سویلین وہاں سے جلدی سے کیسے نکلیں گے کیوں کہ سڑکیں تباہ ہوگئی ہیں۔ حقوق انسانی کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ شہریوں کو لڑائی والے علاقوں سے نکلنے کے محفوظ راستے فراہم کرے۔
غیرمکمل مقاصد جمعرات کو یہاں حزب اللہ کے ایک حملے میں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ بریگڈیئر جنرل الون فریڈمین نے اسرائیلی اخبار ماریو کو بتایا: ’یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ہماری زمینی کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔‘ لہذا اب ایسا لگتا ہے کہ یہ لڑائی اگلے ہفتے بھی جاری رہے گی۔ ناہموار پہاڑیاں یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور چٹانوں کی تشکیل کچھ ایسے ہوئی ہے جس سے متعدد غار وجود میں آئے۔ ان غاروں میں پہلے فلسطینی جنجگو پناہ لیتے تھے اور اب وہاں حزب اللہ کے جنگجو رہتے ہیں۔ اس علاقے میں راستے ناہموار ہیں جو گوریلا جنجگؤں کے لیے تو اچھے ہیں لیکن ان پر اسرائیلی ٹینک اور دیگر مسلح فورسز آسانی سے نہیں چل سکتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجیوں کو ٹینکوں سے نکل کر لڑنا پڑے گا۔
حزب اللہ کی تیاریاں حزب اللہ کی اہم طاقت میزائلیں ہوسکتی ہیں لیکن اس کے جنگجو بھی تیار ہیں اور اب ان کو مواقع ملنے کا وقت آگیا ہے۔ دریں اثناء ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپنے کچھ راکٹوں پیچھے ہٹالیے ہیں اور محفوظ مقامات پر رکھا ہے تاکہ انہیں بفر جون پر فائر کیا جاسکے۔ یہ بھی ناممکن نہیں ہے کہ لبنانی فوج کے کچھ عناصر اسرائیلی فوجیوں کا مقابلہ کریں، اگرچہ جنوبی علاقوں میں لبنان کے فوجی کم ہی ہیں اور ان کی تعداد چند سو ہوسکتی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں کچھ فورسز کے ساتھ داخل ہوئے بغیر کیسے اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ کئی مبصرین پہلے سے ہی امید کررہے تھے کہ اسرائیل زمینی افواج بھیجنے کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ لیتانی آپریشن اس لڑائی میں ان کا مقصد فلسطینی جنگجوؤں کو وہاں سے ہٹانا تھا۔ بعد میں انہوں نے اپنی فوجیں واپس ہٹالیں اور ایک بفر زون قائم کیا جسے وہ سکیورٹی زون کہتے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک کرسچین ملیشیا قائم کی تاکہ وہ اس علاقے میں پولیس کا کام کرسکے۔
سفارتی تیاریاں اس لیے جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے اگر اسرائیل بفر زون قائم کرتا ہے تو وہاں کتنا دن رہے گا؟ اسرائیلیوں کے لیے وہاں گھس جانا آسان ہے کیوں کہ وہ نقصانات اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، لیکن کتنی جلدی وہ واپس جانا چاہیں گے؟ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ وہاں ٹھہرنا نہیں چاہتے لیکن ارادے اور اقدامات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ اس لیے سفارت کاری کی ضرورت پیش آتی ہے جو اب تک مؤثر نہیں ثابت ہوئی ہے۔ امریکی اسرائیلیوں کے اس مطالبے کی حمایت کررہے ہیں کہ موجودہ لڑائی سے واپس پھر اسی حالت میں نہیں جایا جاسکتا جب حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب دیکھنے والے واچ ٹاور قائم کر رکھے ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک فائربندی نہیں ہوسکتی جب تک اس علاقے میں طاقت اور اثر و رسوخ کے بیلنس میں ایک بڑے پیمانے پر تبدیلی نہیں آجاتی۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کررہی ہیں، سفارتی سطح پر کچھ شروع تو ہورہا ہے لیکن کافی سست روی کے ساتھ۔ |
اسی بارے میں جنگی جرائم ہو رہے ہیں: اقوامِ متحدہ20 July, 2006 | آس پاس اسرائیل لبنان میں امداد جانے دے: واچ21 July, 2006 | آس پاس لبنان پراسرائیل کا گھیرا مزید تنگ21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل سے لڑنے کو تیار ہیں: وزیر21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کا مقابلہ کریں گے: حزب اللہ سربراہ21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل مخالف احتجاجی ریلیاں22 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوج لبنانی سرحد پر جمع22 July, 2006 | آس پاس فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس22 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||