لبنان پراسرائیل کا گھیرا مزید تنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے جمعہ کے روز بھی لبنان پر حملے جاری رکھے جن کے دوران اس کی فضائیہ نے جنوبی بیروت میں چالیس سے زائد مقامات کو بموں کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کی بری فوج نے بھی لبنان کی سرحد کے اندر آ کر حزب اللہ کے خلاف مزید کارروائیاں کی ہیں۔ اسرائیل نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں کیونکہ وہ اس علاقے میں بڑی ممکنہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ طائر سے بی بی سی کے نامہ نگار جِم مائر کا کہنا ہے کہ علاقے کو مسلسل بموں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جمعرات کو حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں اس کے چار فوجی مارے گئے ہیں۔ ان حملوں میں حزب اللہ کے جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری کارروائیوں کا نشانہ مخصوص مقامات ہیں اور ان کارروائیوں میں ایک ہزار سے کچھ زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیئے ہزاروں فوجی پہلے سے ہی تعینات کیے جا چکے تھے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے اس کا ایک افسر اس وقت مارا گیا جب دو فوجی ہیلی کاپٹر لبنانی سرحد کے قریب آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو گئے۔ ادھرحز ب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا ہے اسرائیلی حملوں سے تنظیم کی قیادت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور یہ کہ مقید اسرائیلی فوجیوں کو صرف قیدیوں کے تبادلے میں ہی رہائی مل سکتی ہے۔ طائر سے ہمارے نامہ نگار نے مزید بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں لوگ شدید مشکلات میں ہیں۔ علاقے میں سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں جس سے گاؤں کٹ کر رہ گئے ہیں۔
لبنان کے مذکورہ علاقے کے صدر مقام سیدان سے بی بی سی کے ایک دوسرے نامہ نگار راجر ہیرنگ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں متاثرہ مقامات سے تقریباً اٹھائیس ہزار افراد پناہ کی تلاش میں ایک ساحلی مقام پر جمع ہو چکے ہیں اور اس جگہ لوگوں کی شدید بھیڑ ہو چکی ہے۔ سیدان کے مئیر عبد الرحمٰن بزری نے خبردار کیا ہے کہ خوراک، ادویات، پانی اور سر چھپانے کی جگہ کی قلت ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ادھر لبنان کے وزیراعظم فواد سینورا نے کہا ہے کہ گزشتہ دس روز میں ہلاک ہونے والے لبنانیوں کی تعداد تین سو تیس سے زائد ہے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں سےاب تک پچپن پل تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بقول اسرائیلی فوجوں نے ایمبولینس گاڑیوں اور طبی عملے کے قافلوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ’یہ حملہ اب صرف حزب اللہ کے خلاف نہیں رہا، یہ حملہ لبنان اور لبنانیوں پر ہے۔‘ یاد رہے کہ جمعرات کو عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ان دو اسرائیلی فوجیوں کو رہا نہیں کر سکتی جو ان کی قبضے میں ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کے ان دعوؤں کو رد کر دیا جن کے مطابق حزب اللہ کی آدھی قیادت کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے لبنان میں فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے کوفی عنان کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔کوفی عنان نےلبنان کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کرنے حزب اللہ کی مذمت کی لیکن انہوں نے اسرئیل کو بھی ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ دریں اثناء اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز غزہ میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جن کے دوران فلسطینی حکمران جماعت حماس کے ایک رکن اور ان کے کم از کم تین عزیزوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کے مطابق یہ لوگ غزہ شہر میں جمعہ کی صبح اسرائیلی ٹینکوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ |
اسی بارے میں تازہ اسرائیلی حملے، ’تئیس ہلاک‘ 16 July, 2006 | آس پاس حیفہ پر راکٹ حملے، نو ہلاک16 July, 2006 | آس پاس تباہی کے کچھ مناظر: وڈیو16 July, 2006 | آس پاس لبنان کے شمال اور مشرق میں حملے16 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق16 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||