سِیپ، چمکتا سورج، امن اور مشرق وسطیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اسرائيلی اور لبنانی بچوں کو سمندر کنارے سیپوں سے کھیلنے دیا جائے نہ کے بموں کے خولوں سے۔‘ یہ الفاظ کسی شاعر کے نہیں بلکہ جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائيل کے خصوصی ایلچی نے اپنی تقریر میں کہے۔ اصل میں مشرق وسطی کے تازہ تنازعے پر عام بحث کے فریقین نے سلامتی کونسل میں اپنی تقاریر میں اپنے اپنے تخیلات اور تخلیقات کا مظاہرہ کیا اور جذبات ابھارے۔ سلامتی کونسل میں لبنان کے خصوصی ایلچی محمود موہاد نے اپنی تقریر میں کہا ’خونچکان لبنان میں امن واپس آنا چاہیے ، چمکتا ہوا ایسا امن لبنان کی دھوپ جیسا۔‘ فلسطینی خصوصی نمائندے نے کہا ’اسرائیلی جنگی مشین فلسطین اور لبنان کو کھنڈرات میں بدل رہی ہے۔‘ لیکن اسرائیل کے خصوصی نمائندے نے سلامتی کاؤنسل میں اپنی تقریر کا آغاز فی البدیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’نذرتھ جو یسوع کی جنم بھومی ہے وہاں کی گلیوں میں کھیلتے ہوئے دو بچے حزب اللہ کے راکٹوں سے مارے گئے۔‘
انڈونشیا کے نمائندے نے کہا ’گزشتہ ہفتے سے ہم ٹیلیویژن کی اسکرین پر لبنانی شہریوں اور خاص طور بچـوں کے لہو لہاں چہرے دیکھ رہے ہیں جو اسرائیل کی بے رحمی اور لبنانی عوام کو اجتمائی سزا دینے کا اور کھلی جارحیت کا ثبوت ہے۔‘ سلامتی کونسل میں شام کے خصوصی نمائندے نےکہا ’اسرائيل اپنے قیدیوں اور دوسرے قیدیوں میں بڑا فرق سمجھتا ہے۔ اپنے دو قیدیوں کو چھڑانے کےلیئے تو اس نے لبنان اور شام میں انفراسٹرکچر اور انسانی زندگی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے لیکن اسرائيلی جیلوں میں سات لاکھ فلسطینی اور عرب قیدی مظالم سہ رہے ہیں اور ان کی تعداد ان لاکھوں عربوں سے بہت کم ہے جو عرب سرزمین پر اسرائيل کا جبر و تشدد سہ رہے ہیں۔ شام کے سفیر نے کہا کہ انیس سو سڑسٹھ سے اسرائيل نے شام کی گولان پہاڑوں پر قبضہ کر رکھا ہے اوراس کی دہشتگردی واضح ہے۔ اس نے لبنان اور شام کے بیچ وہ شاہراہ بھی بمباری سے تبا ہ کر ڈالی ہے جو غیرملکیوں، سیاحوں اور شہری آبادیوں کی نقل و حرکت کا واحد ذریعہ تھی۔ اسرائیل ریاستی دہشتگردی سے کام لے رہی ہے۔ اسرائيل میں وہ لوگ حکمران ہیں جو صیہونی ٹولوں کے سربراہ تھے۔‘ شامی نمائندے نے کہا کہ شام کے لوگ دنیا میں امن کے آبا و اجداد ہیں۔ ہمارے اسکولوں میں امریکی صدر جارج واشنگٹن کے متعلق بچوں کو سبق پڑھائے جاتے ہیں کیونکہ ہم اسے ’دہشتگرد‘ نہیں بلکہ آزادی کا ہیرو سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ہم گاندھی کو ہم امن اور آزادی کا سپاہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ہم الجزائر کی جمیلہ بوپاشا اور جنوبی افریقہ کے نیلسن مانڈیلا کو سمجھتے ہیں۔‘
شام کے نمائندے نے ان کی حکومت کی جانب سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کوحاصل مبینہ مدد و حمایت کی تردید کی جبکہ اسرائیلی نمائندے کا کہنا تھا کہ جی آٹھ کے ممالک کی کانفرنس سے دو روز قبل حزب اللہ اور شامی حکومت کے سینئر نمائندوں کے درمیاں دمشق میں خفیہ میٹنگ ہوئی تھی جس کا مطلب اسرائیل کے خلاف جارحیت کرکے عالمی برادری کا جی ایٹ اجلاس کے دوران ایرانی میزائيل بحران سے توجہ ہٹانا مقصود تھی۔ سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو غاصبانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لنبان کو سعودی حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ لبنانی اور فلسطینی حکومت کو قانونی تسلیم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صوتحال پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے جہاں برطانیہ، سویڈن، اور یورپی یونین کی طرف سے فن لینڈ، ناروے، ڈنمارک، گھانا، برازیل، ملائيشیا اور اردن نے اسرائیلی سپاہیوں کے حزب اللہ کے ہاتھوں اغوا اور اس کے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کی وہاں ان تمام ممبر ممالک نے شدید الفاظ میں لبنان میں عام آبادیوں پر حملوں اور شہریوں کی ہلاکتوں اور اسرائیل کے غیرمتناسب طاقت کے استعمال کی مذمت کی۔ ان ممالک نے اسرائيل کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے اور سلامتی کونسل کی قرارداد پندرہ سو انسٹھ پر عمل کرنے پر زور دیا۔ ناروے نے لبنان میں شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی اور ناروے کی حکومت کی طرف سے تیس ملین ڈالر کی انسانی امداد کا اعلان کیا جو اقوام متحدہ اور لبنان میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے دی جاۓ گي۔ اردن کے نمائندے نے خطے میں امن کو اسرائيل کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آزادی اور فلسطینی مہاجروں کی واپسی سے مشرط قرار دیا۔ |
اسی بارے میں اسرائیلی فوج لبنانی سرحد پر جمع22 July, 2006 | آس پاس مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس اسرائیل سے لڑنے کو تیار ہیں: وزیر21 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||