سات لاکھ لبنانی بے گھر: ریڈ کراس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کی وجہ سے سات لاکھ لبنانی شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ لبنانی شہریوں کو اس وقت کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء کی ضرورت ہے۔ تنظیم نے دونوں اطراف سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ افراد کے لیے امدادی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر شروع کی جا سکیں۔ ہزاروں غیر ملکی افراد ملک چھوڑ کر جار ہے ہیں لیکن لبنانی شہریوں کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیاں کافی نہیں ہیں۔ ملک میں تیل کی قیمتوں اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام تک لے جانے کے لیے گاڑیوں کے کرایوں میں بھی انتہائی ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جس میں لبنانی شہری بھی شامل ہیں شام کی سرحد کے پاس جمع ہیں تاکہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیئے وہاں پناہ لی جا سکے۔ تنظیم نے لبنان کے سرحدی مقامات پر ان افراد کے لیئے استقبالی مراکز قائم کر دیے ہیں۔ شام میں ریڈ کراس تنظیم نے ان افراد کی عارضی سکونت کے لیے سکولوں کو بطور پناہ گاہ کے بنا دیا ہے۔ بین اقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ انٹرنشینل فیڈریشن آف ریڈ کراس کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ بمباری نے تقریبًا سات لاکھ کے قریب لبنانیوں کو بے گھر کر دیا ہے اور متاثرہ افراد کو امدادی اشیاء پہنچانے کے لیئے جنگ بندی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم انسانی بحران سے نکلنے کے لیئے ہی حملےروک دیے جائیں کیونکہ میزائلوں اور راکٹوں کے سائے میں امداد کی فراہمی ایک انتہائی مشکل کام ہے۔
لبنان کے کچھ حصوں میں واقع عمارتیں اسرائیلی راکٹوں کی وجہ سےکھنڈر میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں زندگی کے کام نہیں رکے ہیں۔ ایسے ہی ایک علاقے میں ٹیکسی چلانے والے محمد نصولی کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم یہاں محفوظ ہیں تاہم جہازوں اور دھماکوں کی آوازیں |
اسی بارے میں حزب اللہ نے ایسا کیوں کیا؟18 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کا وقت نہیں: اسرائیل18 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کے ’پاگل پن‘ کی مذمت18 July, 2006 | آس پاس لبنان پر تازہ حملے، ہلاکتیں، تباہ کاریاں19 July, 2006 | آس پاس ایران کا ہاتھ ہے، اسرائیل: شام پر شبہہ ہے، امریکہ19 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||