BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 July, 2006, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید اسرائیلی حملے، درجنوں لبنانی ہلاک
لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں
اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ملک کے جنوب اور مشرق میں تازہ حملوں میں کم از کم پچپن شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج، جو ٹینکوں کے ہمراہ تھی، کی حزب اللہ کے کارکنوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج اس علاقے میں حزب اللہ کے کارکنوں کے ٹھکانوں اور ہتھیاروں کی تلاش میں داخل ہوئی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جھڑپیں کئی گھنٹے تک جاری رہیں اور دونوں طرف سے فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں کم از کم دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

دوسری طرف حزب اللہ نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی اس علاقے میں داخلے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ حزب اللہ نے اسرائیلی کے شمالی علاقوں میں راکٹ حملے کیے ہیں۔ نظرت کے علاقے میں راکٹوں حملوں میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حیفہ میں بھی کئی راکٹ داغے گئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنوبی گاؤں سریفہ میں ایک فضائی حملے میں بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق دیگر حملوں میں مزید بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یورپی یونین نے ان حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔

لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے گزشتہ بدھ کو دو اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے پر اسرائیل نے آٹھ روز سے شدید بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اب تک ان حملوں میں کم از کم 280 لبنانی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 25 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔

حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بدھ کے راکٹ حملوں میں چند لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

سرحد پار حزب اللہ چھاپوں کی کارروائیوں نے بھی حالیہ بحران کو سنگین بنایا ہے اور اسی بنا پر ہمیں اپنا گھر بھی چھوڑنا پڑا لیکن میں شدت پسندوں کی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتا ہوں
لبنانی شہری محمد

اسرائیل کے تازہ حملے دارالحکومت بیروت اور ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کیے جارہے ہیں۔ ان علاقوں میں کئی شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

بدھ کی صبح اسرائیلی فوج جنوبی سرحد پار کرکے’محدود اور نپے تلے‘ حملوں کی غرض سے لبنان میں داخل ہوگئی۔

فی الحال اس تشدد آمیزی میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لبنان کے ہزاروں خوفزدہ مکین ملک چھوڑ کرجارہے ہیں۔

کئی ممالک نے لبنان سے اپنے شہریوں کے انخلاء کے لیئے بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر بھیجے ہیں جبکہ ہزاروں افراد لبنان کی سرحد پار کرکے شام پہنچ گئے ہیں۔

لبنان میں ہزاروں مکانات اسرائیلی بمباری کی نذر ہوچکے ہیں۔

سینکڑوں یورپی باشندوں کو قبرص پہنچایا جاچکا ہے۔ ایک برطانوی بحری جہاز اپنے 180 باشندوں کو لے کر بیروت سے روانہ ہوگیا ہے۔ اگلے چند روز میں 5000 برطانوی شہریوں کا انخلاء متوقع ہے۔ امریکہ کا کہنا کہ اس کے تین سو سے زیادہ باشندوں کو نکالا جائے گا، اس کے بعد روزانہ ایک ہزار امریکیوں کو بحفاظت نکالا جائے گا۔

فرانسیسی بحری جہاز بارہ سو افراد کو لے کر قبرص پہنچا

ناروے کا ایک بحری جہاز ناروے، سویڈن اور امریکہ کے سینکڑوں باشندوں کو پہلے ہی قبرص لے جاچکا ہے۔ مزید امریکیوں اور آسٹریلوی شہریوں کے انخلاء کے انتظامات مکمل ہیں۔

امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ا ن حملوں میں پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ ان اداروں نے امدادی کاموں کے لیئے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

اسرائیل کا تازہ آپریشن صدر بش کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ لبنان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیئے اس بحران کا استحصال کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی کارروائیوں کی سرپرستی دمشق سے کی جارہی ہے۔

صدر بش نے اپنا موقف دہرایا ہے کہ ’اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ تاہم ہم نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نئی لبنانی حکومت کا خیال رکھے‘۔

دریں اثناء بحران کے خاتمے کے لیئے بین الاقوامی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاویئر سولانا اسرائیلی وزیر خارجہ اور فلسطینی اور مصری حکام سے مذاکرات کریں گے۔ اس مقصد سے وہ اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ٹیم جو چند روز سے علاقے میں تھی اب واپس نیویارک جارہی ہے تاکہ سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو صورتحال پر بریفنگ دے سکے۔ کوفی عنان جمعرات کو سکیورٹی کونسل سے خطاب کریں گے۔

اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی ٹینک بدھ کو غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوگئے۔ اس کارروائی میں نو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 سے زائد زخمی ہیں۔


حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد