حزب اللہ نے ایسا کیوں کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو کمزور کرنےاور اسے جنوبی لبنان کے استعمال کو روکنے کے لیے لبنان پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب پچھلے ہفتے حزب اللہ نے اسرائیل کی سرحد کو عبور کر کے دو اسرائیلی فوجیوں کو قیدی بنا لیا تھا۔اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر تواتر کے ساتھ جوابی حملے کر رہے ہیں اور خطرہ پیدا ہو چکا ہے کہ یہ حملے پورے علاقے کو اپنے لپیٹ میں ہی نہ لے لیں۔ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حزب اللہ نے آخر ایسا کیوں کیا، اس کے کیا مقاصد ہیں اور ایسا کرنے کے لیےاس نے یہ وقت کیوں چنا اور یہ سوال لبنانی شہری بھی اٹھا رہے ہیں جو اسرائیل کی بمباری سے متاثر ہو رہے ہیں۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں اور عرب قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی دلانے کے لیے ایسا کیا ہے۔
یہ سب کچھ اس کہانی کے صرف چند رخ ہیں۔ مبصرین کے خیال میں حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کی سرحد کو پار کر کے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنا اور ان کو قیدی بنا لینے کے کئی مقاصد ہیں۔ ٭ حزب اللہ لبنان میں اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر بنانا چاہتا ہے جہاں وہ حکومت کا حصہ بھی ہے۔اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حزب اللہ کوغیر مسلح کیا جانا ہے۔ حزب اللہ اپنے اوپر اس توجہ کو ہٹانا چاہتا ہے۔ ٭ حزب اللہ حماس کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اس کے ساتھ ہے اور اسرائیل کو دوسرے فرنٹ پر مصروف کر کے اس پر سے پریشر کم کر رہا ہے۔ ٭ حزب اللہ اپنے علاقائی اتحادی اور مدد گاروں، ایران اور شام کی ایما پر امریکہ کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ آپ اگر ہمیں دیوار کے ساتھ لگاؤ گے تو ہم آپ کے لیئے اس طرح کے مسائل بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ کو جو ایک تیز طرار شخصیت ہیں، اس وقت یہ دیکھنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ جھگڑا شروع کر کے لبنان میں اپنی مقبولیت کو داؤ پر تو نہیں لگا دیا۔ فوری طور پر تو لبنان کے شہری اپنا غصہ حزب اللہ کی بجائے اسرائیل پر اتار رہے ہیں لیکن اگر حالات نے کروٹ لی تو شاید یہ تبدیل ہو جائے۔ لبنان کے اندر یا باہر حزب اللہ کے ناقدین اس پر غیر ذمہ داری اور لبنانی عوام کی بجائے شام اور ایران کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔ لبنان پچھلے دو سالوں میں شام کے حمایتیوں اور مخالفوں میں بٹا ہوا ہے۔شام کے حمایتیوں میں حزب اللہ اور شیعہ تنظم ’عمل‘ شامل ہے جبکہ شام مخالفوں میں عیسائی، سنی اور دروز شامل ہیں۔ حزب اللہ کی قیادت کے لیے ضروری کہ وہ یہ اندازہ لگائے کہ اس کے ان اقدامات سے اپنے علاقائی مددگاروں کے لیے کس قسم کےمسائل پیدا کر رہا ہے۔ فی الحال ایران اور شام کے مفادات مشترک ہیں۔ ایران اور شام اپنے اوپرسے امریکی توجہ کو ہٹانے چاہتے ہیں۔امریکہ ایران کو باقاعدہ طور پر ’ بدی کے محور‘ کا مستقل رکن قرار دیتا ہے جبکہ شام غیر رسمی رکن ہے۔ جبکہ ایران اور شام کا امریکہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ حزب اللہ اور حماس کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں ’طاقت کا ایک محور ہیں۔ لیکن کیا ہو گا اگر یہ لڑائی وسیع تر جائے؟ بیان بازی الگ ایران اور شام اس جنگ میں براہ راست شامل ہونا نہیں چاہیں گے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہ کر بیٹھے۔ | اسی بارے میں لبنان: حزب اللہ کیا ہے؟13 July, 2006 | آس پاس اسرائیل پر قرار داد، امریکہ کا ویٹو13 July, 2006 | آس پاس مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس لبنان پر مزید اسرائیلی بمباری14 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||