BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 July, 2006, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان اور اسرائیل کی حکمتِ عملی

اسرائیلی وزیرِخارجہ مسز تیزیپی لیوینی کا کہنا کہ عالمی سفارتی کوششوں کو مقصد فوجی کارروائی کے مواقع کو محدود کرنا نہیں ہے
لبنان سے حزب اللہ کی کارروائی اور اس کے بعد جاری اسرائیلی حملوں سے پیدا ہونے والے بحران کو ایک ہفتہ ہو چکا ہے اور اسرائیل کا موقف ہے کہ ابھی جنگ بندی کا وقت نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل کی حکمت عملی کیا ہے؟



بحران کو کم سے کم کرنے کے لیئے عالمی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور انہیں مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے لیکن اسرائیلی حملوں میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اسرائیلی وزیرِخارجہ مسز تیزیپی لیوینی کا کہنا کہ عالمی سفارتی کوششوں کا مقصد فوجی کارروائی کے مواقع کو محدود کرنا نہیں ہے۔ اسرائیل کے دورے پر جانے والے اقوام متحدہ کے وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’متوازی کارروائیاں ہوں گی‘۔

اگرچہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان اسے دوسری طرح دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اشتعال انگیزیاں بند ہوں تو سفارت کاری کو کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔

فی الوقت تو اسرائیل اپنے راستے پر چل رہا ہے اور کوفی عنان کے مصالحت کار جاری بحران کے شور غوغے میں اپنے کام کو آگے بڑھانے کو کوشش کریں گے۔

تباہ کاریاں
ان حملوں میں ہزاروں مکانات تباہ ہوچکے ہیں

اسرائیلی کارروائی کے لیئے دو اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کا جواز ایسی ہی کارروائی ہے جیسی اسرائیل غزہ میں کرتا رہا ہے لیکن جس طرح اسرائیل نے جوابی کارروائی کا دائرہ وسیع کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان پر اسرائیل کا حملہ کہیں بڑے مقصد کا حامل ہے۔

اسرائیل حزب اللہ پر ایک فیصلہ کن چوٹ لگانا چاہتا ہے اور اس کارروائی کے دوران حزب اللہ کے پاس موجود وہ تمام اسلحہ ضائع کرانا چاہتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حزب اللہ نے ایران اور شام سے اس وقت کے بعد سے حاصل کرنا شروع کیا تھا جب 2000 میں اسرائیل کی جنوبی لبنان سے واپسی ہوئی تھی۔

اس کے بعد اسرائیل چاہتا ہے کہ حزب اللہ کو ستمبر 2004 میں منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1559 کے تحت ممنوعہ قرار دے دیا جائے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ مسز لیوینی کا کہنا ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی موجودگی ہو اور ایران اور شام مستقبل میں حزب اللہ کو پھر سے مسلح نہ کر سکیں۔

اسرائیلی سکیورٹی کے سابق ڈائریکٹر گیورا ایلینڈ کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا مقصد ہے اور لبنان پر کارروائی کے اس موقے نے ہمارے لیئے وہ حاصل کرنے کا امکان پیدا کر دیا ہے جو ہم 1982 اور 2000 میں حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

انہوں نے پیر کو ایک اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا ہے کہ ’ یہ مقصد شمال میں ایک خود مختار اور غیر جنگجو ریاست کا وجود ہے اور اب مقصد کو حاصل کرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے‘۔

لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے جس طرح لبنان کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے اور جس طرح لبنانی شہری اور فوجی ہلاک کیے جا رہے ہیں اس سے مبینہ مقصد کچھ اور ہونے کے اشارے دیتا ہے ۔

یورپی ملکوں کے بحری جہازوںسے غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالا جا رہا ہے

جنرل ایلینڈ متنبہ کرتے ہیں کہ ’اسرائیلی فوجی کارروائی ہفتوں جاری رہنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور اس کے تتیجے میں ہمارے بارے میں عالمی رائےعامہ میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔ اس سے لبنان میں ایک سیاسی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے اور ہم ایک پھر ہم انتشار میں بھی داخل ہو سکتے ہیں‘۔

اسرائیل میں حکومت کو اس کارروائی کے خلاف عوام کی حمایت حاصل ہے لیکن اکا دکا آوازیں اس کے خلاف بھی ہیں۔

حزب اختلاف کی ایک جماعت میریتز پارٹی کے بوسی بئیلین کا کہنا ہے کہ ’ وجہ جو بھی طاقت کے مظاہرے کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ سے بات کی جانی چاہیے، چاہے تیسرے فریق کے ذریعے ہی ہو اور شام سے بات کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں‘۔

حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد