وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نمائندے وویک راج لبنان پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں جہاں سے انہوں سے اسرائیل کی بمباری سے ہونے والے تباہی کا آنکھوں دیکھا حال بھیجا ہے۔ ______ میں جنوبی لبنان کی شہر صورت میں ہوں جو اسرائیل کی سرحد سے صرف بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ میں نے آج صورت کے ہسپتال کا دورہ کیا جہاں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔زخمیوں میں بچے، بوڑھے، عورتیں اور جوان شامل تھے جن میں اکثر جلے ہوئے ہیں جبکہ کچھ میزائیلوں کے ٹکرے لگنے سے زخمی ہیں۔ صورت کے اس ہسپتال کے دورے کے دوران میری ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جس کا گھر ہپستال کی بغل میں ہے ۔ خاتون نے ایک گھر دکھایا جو ایک روز پہلے میزائیل لگنے سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور پورا خاندان اس میں دفن ہوگیا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ ان میں کوئی زندہ بچا ہے یا سارے مر چکے ہیں۔ میں نے جب اس تباہ گھر کا معائنہ کیا تو وہاں زندگی کا کوئی آثار نظر نہ آیا۔ ہر طرف سے بموں سے ہونے والی تباہی ہی تباہی ہے۔مواصلات کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ فضا، زمین اور سمندر سے بم پھینکے جا رہے ہیں۔ سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور وہاں وہی رہ رہے ہیں جو وہاں سے نکلنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ صورت کا شہر بلکل ویران ہےا ور جو اکا دکا لوگ نظر آتے ہیں وہ سخت ڈرے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ غیر ملکیوں کے لبنان سےچلے جانے کے بعد اسرائیل پہلے سے بھی زیادہ شدید بمباری کرے گا۔ لبنان کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تنازعہ جلد ختم نہیں ہو گا اور وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ صورت میں عیسائی، یہودی، اور مسلمان مل کر رہتے ہیں۔ شہر کے سب سے بڑے چرچ میں لوگوں نے اس امید پر پناہ لے رکھی ہے کہ اسرائیل چرچ پر حملہ نہیں کرے گا۔ یہ علاقے دو عشروں تک اسرائیل کے قبضے میں رہا ہے اور مقامی لوگ اسرائیل کے بارے اچھے جذبات نہیں رکھتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یہ علاقہ حزب اللہ کی مزاحمت کی وجہ سے چھوڑا۔ لوگوں کی اکثریت حزب اللہ کے حمایتی ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان کے اندر شدید لڑائی20 July, 2006 | آس پاس لبنان میں لڑائی بند ہونی چاہیے: عنان20 July, 2006 | آس پاس جنگی جرائم ہو رہے ہیں: اقوامِ متحدہ20 July, 2006 | آس پاس اسرائیل لبنان میں امداد جانے دے: واچ21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کا مقابلہ کریں گے: حزب اللہ سربراہ21 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||