لبنان کے اندر شدید لڑائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے فوجی ذرائع کے مطابق لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپ جاری ہے۔ امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تنازع تباہ کن انسانی المیہ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا ائے نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک اور پچاس ہزار بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں۔ بدھ کو لبنان میں اب تک کی بدترین خونریزی کے بعد جس میں پچپن عام لبنانی ہلاک ہوئے، اسرائیلی فضائیہ نے جمعرات کی صبح لبنان پر 80 نئے حملے کیئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے اندر حزب اللہ کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپ جاری ہے۔ ایک اسرائیلی ترجمان کے مطابق ایک اسرائیلی گاؤں اویوم کے شمال میں بھی لڑائی جاری ہے۔ اس سے قبل بدھ کی نصف شب کواسرائیلی طیاروں نےحزب اللہ کے رہنماؤں کی پناہ گاہ قرار پر تئیس ٹن وزنی بم گرائے۔ تاہم حزب اللہ کے ٹیلی وژن کا دعوٰی ہے کہ تنظیم کا کوئی بھی رہنما ہلاک نہیں ہوا اور اسرائیلی بم ایک خالی مسجد پر گرے۔
اقوامِ متحدہ کےہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر ژان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ عام لوگوں کے درد کو محسوس کر رہے ہیں۔ ژان ایگیلنڈ کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ایک تہائی بچے ہیں۔ دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ برطانیہ، امریکہ اور ناروے کے ایک ہزار سے قریب شہریوں کو بحری جہاز کے ذریعے قبرص پہنچا دیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی سینکڑوں غیر ملکی باشندے لبنان میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے ساحلی علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
لبنانی وزیرِ اعظم کی جانب سےامن کی اپیل تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد آئی جس میں کم سے کم پچاس لبنانی شہری ہلاک ہوئے۔ ملک کے جنوب میں حزب اللہ چھاپہ ماروں اور اسرائیلی بری فوج کے درمیان بھی گھمسان کی لڑائی ہوئی جس میں دو اسرائیلی فوجیوں مارے گئے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کہا ہے کہ یہ خیال کہ جنگ بندی سے مسئلہ حل ہو جائے گا، درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’ کیا کوئی اس بات پر روشنی ڈالے گا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جنگ بندی کیسے کی جائے۔ مجھے کوئی بتائے کہ کب ماضی میں کسی ملک اور کسی دہشت گرد تنظیم کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ یہ مختلف حالات ہیں اور ان میں روایتی سوچ کام نہیں کرے گی۔‘
اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ نےگھروں میں میزائل چھپا رکھے ہیں۔’ ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یا تو میزائل پھینک دو، یا گھر چھوڑ دو، ہم بیٹھ کر ان میزائلوں کو اسرائیل پر داغے جانے کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘ یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 300 سے زائد لبنانی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 25 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بدھ کے راکٹ حملوں میں چند لوگ زخمی ہوئے۔اسرائیل کے تازہ حملے دارالحکومت بیروت اور ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر کیے جارہے ہیں۔
سینکڑوں یورپی باشندوں کو قبرص پہنچایا جاچکا ہے۔ ایک برطانوی بحری جہاز اپنے 180 باشندوں کو لے کر بیروت سے روانہ ہوگیا ہے۔ اگلے چند روز میں 5000 برطانوی شہریوں کا انخلاء متوقع ہے۔ امریکہ کا کہنا کہ اس کے تین سو سے زیادہ باشندوں کو نکالا جائے گا، اس کے بعد روزانہ ایک ہزار امریکیوں کو بحفاظت نکالا جائے گا۔
ناروے کا ایک بحری جہاز ناروے، سویڈن اور امریکہ کے سینکڑوں باشندوں کو پہلے ہی قبرص لے جاچکا ہے۔ مزید امریکیوں اور آسٹریلوی شہریوں کے انخلاء کے انتظامات مکمل ہیں۔
اقوام متحدہ کی ٹیم جو چند روز سے علاقے میں تھی اب واپس نیویارک جارہی ہے تاکہ سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو صورتحال پر بریفنگ دے سکے۔ کوفی عنان آج سکیورٹی کونسل سے خطاب کریں گے۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں بھی فوجی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی ٹینک بدھ کو غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوگئے۔ اس کارروائی میں نو فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 45 سے زائد زخمی ہیں۔
|
اسی بارے میں تازہ اسرائیلی حملے، ’تئیس ہلاک‘ 16 July, 2006 | آس پاس حیفہ پر راکٹ حملے، نو ہلاک16 July, 2006 | آس پاس تباہی کے کچھ مناظر: وڈیو16 July, 2006 | آس پاس لبنان کے شمال اور مشرق میں حملے16 July, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی اپیل پر عدم اتفاق16 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||