BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 July, 2006, 07:30 GMT 12:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان کی کمزور آرمی

کمزور فوج کی موجودگی میں حزب اللہ کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے
لبنان میں دو طرح کی فوجیں پائی جاتی ہیں: ایک تو لبنان کی آرمی اور دوسرے حزب اللہ کے جنگجو۔ موجودہ تنازع اور اسرائیلی حملو ں کے باوجود لبنان آرمی خاموشی سے اپنی بیرکوں میں موجود ہے جبکہ حزب اللہ ملک کے جنوبی حصے سے اسرائیل پر راکٹ داغنے کی کوشش میں ہے۔

لیکن فوج کی یہ خاموشی بے وجہ نہیں ہے۔ 38000 فوجیوں پر مشتمل یہ چھوٹی سی آرمی ہے جس کے پاس کسی بڑی کارروائی کا جواب دینے کے لیئے مناسب ہتھیار اور سازوسامان بھی موجود نہیں ہے۔

لبنان میں فوج کی تعداد ایک نہایت حساس معاملہ ہے اور اسی معاملے پر ملک 15 سال تک خانہ جنگی کا شکار رہ چکا ہے۔

لبنان کی آرمی کو ملک کی صحیح نمائندگی دینے کے لیئے شیعہ، سنی، عیسائی غرضیکہ ہر مذہبی گروہ سے فوجیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

فوج کے پاس اسرائیل کی کارروائیوں کا جواب دینےکے لیئے نہ تو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل ڈیفنس سسٹم ہے، نہ فضائیہ کے پاس جیٹ ہیں اور نہ ہی بحریہ کے پاس جنگی بحری جہاز۔ فوج بنیادی سازو سامان سے لیس نہیں۔

لبنان کی فوج کے جرنیل امین ہوتیت کاکہنا ہے ’ہماری فوج آسمان میں موجود اسرائیلی طیاروں سے نہیں لڑسکتی‘۔

کمزور فوج کی موجودگی میں حزب اللہ کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ جنرل امین کے مطابق حزب اللہ ملکی دفاع کا ایک حصہ ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ آرمی کا اس تنظیم کے ساتھ کوئی سرکاری رابطہ یا تعلق نہیں ہے۔

حزب اللہ اپنے معاملات مخفی رکھتی ہے جس کے باعث اس کی لڑائی کی صلاحیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم چند تجزیہ کاروں کے مطابق تنظیم میں ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو اور لڑنے کی صلاحیت ہے۔

’ہماری فوج آسمان میں موجود اسرائیلی طیاروں سے نہیں لڑسکتی‘
’ہماری فوج آسمان میں موجود اسرائیلی طیاروں سے نہیں لڑسکتی‘

حزب اللہ 1980 میں شیخ حسن نصر اللہ کی سربراہی میں ابھری تھی۔ اسی دور میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کردیا تھا۔ چند شیعہ افراد نے جنگجوؤں کے چھوٹے چھوٹے گروپ بنانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اسرائیل کو شمالی لبنان سے نکال باہر کیا جائے۔ اسرائیل نے 2000 میں اپنی فوجیں واپس بلالی تھیں۔

لبنان کی فوج کے ایک اور جرنیل الیاس ہانا کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کو آزاد کرواکے حزب اللہ نے عرب دنیا کی عظمت برقرار رکھی ہے۔

زیادہ تر لبنانی باشندے حزب اللہ سے خوش تھے کہ انہوں نے ملک کو اسرائیل سے چھٹکارا دلایا تاہم اب کئی کا خیال ہے کہ حزب اللہ نے یہ جنگ ان پر مسلط کی ہے۔

حزب اللہ پر غیر مسلح ہونے کے لیئے عالمی برادری مسلسل دباؤ ڈالتی رہی ہے تاہم تنظیم نے ہمیشہ یہ مطالبات رد کیئے ہیں۔

لبنان کی فوج میں بھی اکثریت شیعہ حلقوں کی ہے۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ لبنانی فوج حزب اللہ کی مخالفت کرے گی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حملوں میں حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم اب لبنانی حکومت نے کہہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل کی زمینی فوج جنوبی لبنان میں تعینات کی گئی تو وہ بھی جنگ میں شامل ہوجائیں گے۔

لبنانی وزیر دفاع نے کہا ہے ’ہم اپنے آخری فوجی تک اپنی سر زمین کا دفاع کریں گے۔ ہم اپنی زمین کی قیمت دیں گے‘۔

 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
اسرائیل کا مقصد؟
لبنان پر حملوں سے اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
لبنان: تباہی، انخلاء
چہروں پر جھلکتا خوف
لبنانی بچہاسرائیلی بمباری
سات لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں: ریڈ کراس
اسرائیلی لابی کا اثر
امریکہ میں اسرائیل کے حق میں مظاہرے
اسرائیل، حزب اللہشاعرانہ سفارتکاری
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ پر بحث
وویک نے کیا دیکھا
بی بی سی کے وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد