سری لنکن: لبنان میں رکنے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکن حکام نے جنگ زدہ لبنان میں پھنسے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جہاں بھی ہیں وہیں رہیں۔ مزدوروں کے شعبے کے وزیر اتھودا سنواراتھنے نے کہا ہے کہ لبنان میں موجود بیشتر سری لنکن وہیں رہنا چاہتے ہیں اور انہوں نے اپنے رشتہ داروں پر زور دیا ہے کہ وطن واپسی کے لیئے ان پر دباؤ نہ ڈالیں۔ لبنان میں غیر ملکی ملازمین کی سب سے بڑی تعداد سری لنکن باشندوں کی ہے۔ یہاں تقریباً نوے ہزار سری لنکن ملازمین کام کرتے ہیں۔ان میں سے ایک کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ بدھ کو 300 بھارتی شہریوں کو لبنان سے نکالا جائے گا۔ جنوبی ایشیا کے لاکھوں باشندے بیرون ممالک کام کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر خلیجی ممالک میں ہیں۔ بیرون ملک مقیم سری لنکا کے باشندے ہر سال اپنے ملک رقوم بھیجوا کر معیشت پر مثبت اثرات کا باعث بنتے ہیں۔ گزشتہ اختتام ہفتہ 276 سری لنکن باشندوں کا پہلا گروپ واپس کولمبو پہنچا ہے۔ سنواراتھنے کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان افراد سے بات چیت کی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد واپس جانا چاہتے ہیں۔ ’صرف ایک عورت جو چودہ سال سے وہاں تھی، سری لنکا ہی میں رہنا چاہتی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا حکومت اپنی مرضی سے واپسی کے خواہشمند لوگوں کے لیئے انتظامات کرنے کو تیار ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ زیادہ لوگوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے۔ سری لنکا کے 776 افراد کا دوسرا گروہ جمعرات سے بیروت کو واپس وطن روانہ ہوگا۔ دریں اثناء لبنان میں سری لنکا کے سفیر کا کہنا ہے جنوبی لبنان میں پھنس جانے والے سینکڑوں گھریلوملازمین بیروت میں ان کے سفارتخانے تک پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس22 July, 2006 | آس پاس رائس مڈل ایسٹ کا دورہ کریں گی21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل سے لڑنے کو تیار ہیں: وزیر21 July, 2006 | آس پاس لبنان پر زمینی حملے کی تیاریاں21 July, 2006 | آس پاس لبنان پر حملوں کے خلاف مظاہرے 21 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||