’لبنان: مذہب نہیں انسانیت اہم ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہفتے قبل تک ستر سالہ لبنانی بیوہ نادیہ اظہر انتہائی پرسکون زندگی گزار رہی تھیں اور وہ اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ لونگ روم میں بیٹھ کر گزارتیں جہاں دیواروں پر بڑی خوبصورت پینٹنگز لگی ہوئی ہیں یا پھر بالکونی سے نظر آنے والی شہر کی مصروف گلی کا نظارہ کرتی تھیں۔ بیروت کے اشرفیہ ضلع میں ان کے چار کمروں کے فلیٹ میں اس وقت چار خواتین اپنے نو بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں جو لبنان کے جنوبی حصے سے ان کے گھر میں رہنے کو آئے ہیں۔ گھر میں بچوں نے طوفان مچایا ہوا ہے۔ ایک بچہ اپنے ایک ہاتھ میں پلاسٹک کا ریکٹ تو تو دوسرے میں تربوز کی پھانک پکڑ کے دوڑ رہا ہے۔ مسز اظہر کا کہنا ہے کہ ان کے گھر آئے مہمان جب تک چاہیں قیام کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کے اپنے بچو ں کے جپسے ہی تو ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اب تک لاکھوں لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ تقریبا نوے ہزار کے قریب افراد سکولوں اور دوسرے مقامات پر پناہ لیے ہوئےہیں۔ مسز اظہر کی طرح اور لوگوں نے بھی اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے گھر میں پناہ لی ہوئی ہے۔ دو بچوں کی ماں 34 سالہ فدیہ اسد نے بتایاکہ مسز اظہر ایک انتہائی مشفق خاتون ہیں اور ہمیں گھر کے فرد سمجھتے ہوئےوہ خود مختلف کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔ مسز اظہر عسیائی ہیں اور ان کے گھر پناہ لینے والے خاندان شیعہ مسلمان ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ تعلقات میں مذہب اہم نہیں۔’ ہم سب لبنانی ہیں”
مسز اظہر کے گھر قیام کرنے والی یہ چاروں خواتین آپس میں رشتہ دار ہیں اور ان کے شوہر بیروت کےاشرفیہ ضلع میں بیکری چلاتے ہیں اور مسز اظہر اور ان کے شوہر نصری کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ مسز اظہر کے شوہر گیارہ سال قبل کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں ۔ اسرائیل نے جیسے ہی ان افراد کے گھروں کے پاس حملے شروع کیے تو اسی وقت ان شوہروں نے گھر چھوڑنے کو کہا۔ مسز اسد کا کہنا تھا کہ انہیں علم ہے کہ قریبی دیہاتوں میں کوئی چار افراد اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہوئے ہیں۔ بم دھماکوں کی گونج میں یہ خاندان اپنے گھروں سے گاڑیوں میں حملوں سے بچتے بچاتے مسز خان کے گھر پہنچے۔ اڑتیس سالہ امینہ وہابی نے بتایا کہ تمام راستے بچے خوف کا شکار رہے۔ یہ خاندان اس وقت دو بیڈ رومز میں سے ایک میں سو رہے ہیں اور بچ جانے پر وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔ تاہم ان خواتین کے شوہر اپنے گاؤں میں ہی ہیں جہاں وہ بدستور بیکری میں کام کررہے ہیں۔ یہ بیکری جنوبی لبنان میں ڈبل روٹیاں فراہم کرنے کا کام کرتی ہے۔ مسز اسد نے بتایا کہ تین سالہ ابراہیم اپنے والد کو یاد کرکے روتا ہے۔ ماؤں کا کہنا تھا کہ مسلسل گھر میں رہنے کی وجہ سے بچے اکتا گئے ہیں کیونکہ ایسے حالات میں وہ باہر کھیلنے نہیں جاسکتے۔ مسز اسد نے بتایا کہ بم دھماکوں کے آوازیں سنتے ہیں بچے خوف سے گھر کے کونوں کھدروں میں چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ فوری فائر بندی کی ضرورت ہے‘ 23 July, 2006 | آس پاس ’بیروت کی تباہی ہیبت ناک ہے‘23 July, 2006 | آس پاس ’والدین ملک نہیں چھوڑ سکتے اور میں انہیں‘24 July, 2006 | آس پاس رائس فواد ملاقات، بحران پر بات چیت24 July, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطٰی میں تبدیلی کا’امریکی منصوبہ‘24 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||