BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’والدین ملک نہیں چھوڑ سکتے اور میں انہیں‘
غادہ متری
مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی بھی بموں کی آواز کی عادی ہو پاؤں گی۔
غادہ متری کے پاس لبنان اور برطانیہ کی دوہری شہریت ہے لیکن پھر بھی انہوں نے لبنان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے برطانوی دوست یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ ان کے اس فیصلے کی وجہ کیا ہے لیکن غادہ کا کہنا ہے کہ ’میں اس سال جنوری میں اپنے عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کے لیئے لندن سے لبنان منتقل ہوئی۔ اب اس وقت انہیں یہ سہولت حاصل نہیں کہ وہ ملک چھوڑ سکیں اور میں انہیں اس حال میں نہیں چھوڑ سکتی۔

میں لبنانی حکومت کے محکمۂ ماحولیات میں کام کرتی ہوں اور روزگار کی خاطر روزانہ بیروت جاتی ہوں لیکن واقعی یہ ایک دہشت ناک سفر ہوتا ہے۔ ہر وقت یہ خوف ہوتا ہے کہ جس سڑک پر میں محوِ سفر ہوں نہ جانے کس وقت اسے نشانہ بنایا جائے۔ دفتر میں مجھےگرنے والے ہر بم کی آواز سنائی دیتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ سب بم مجھ پر ہی گر رہے ہیں۔

 اب فی الحال یہی زندگی ہے اور میں اسے بہتر طریقے سے گزارنے کی کوشش میں ہوں۔ میں بہتر حالات کے لیئے پرامید اور دعاگو ہوں۔ یہ میرا ملک جو ابھی خانہ جنگی کے اثر سے بہار نکلا ہی تھا ایک مرتبہ پھر تباہ کر دیا گیا ہے۔

میں دفتر میں کام پر توجہ دینے کی کوشش شروع کرتی ہی ہوں کہ پھر وہی آواز آتی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی بھی اس آواز کی عادی ہو پاؤں گی۔ یہ آواز سن کر پہلا احساس خوف کا ہوتا ہے لیکن اس کے بعد بے یقینی کی کیفیت چھا جاتی ہے۔ میں اب تک یقین نہیں کر پائی کہ یہ سب کچھ حقیقت میں ہو رہا ہے۔

میں کام پر توجہ دینے اور پر سکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں اور پھر جب میرا سانس بحال ہوتا ہے اور کپکپاہٹ ختم ہوتی ہے تو میں اٹھ کر خبروں کے ذریعے معلوم کرتی ہوں کہ بم کہاں گرے ہیں۔

جب میں اپنا دفتری کام ختم کرلیتی ہوں تو لبنانی ریڈ کراس کے لیئے بطور رضاکار کام کرتی ہوں۔ میں نے اس کام کے دوران بہت سے ایسے مضطرب لبنانی باشندوں کی ٹیلیفون کالیں سنی ہیں جو جنوب میں دیہاتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں وہاں سے نکلنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا۔

میں اس وقت تک بطور رضاکار کام کرنا چاہتی ہوں جب تک علاقے میں نقل و حرکت غیر محفوظ نہیں ہوجاتی۔ ہنگامی کال سینٹرز آنے والی کالوں کے دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتے اور ان کی جتنی بھی مدد ہو سکے کم ہے۔

 میں کام پر توجہ دینے اور پر سکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں اور پھر جب میرا سانس بحال ہوتا ہے اور کپکپاہٹ ختم ہوتی ہے تو میں اٹھ کر خبروں کے ذریعے معلوم کرتی ہوں کہ بم کہاں گرے ہیں۔

میرے والدین بارہا مجھ سے نقل مکانی کے لیئے کہہ چکے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو محفوظ مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن میں نہیں جا سکتی۔ میں یہیں لبنان میں ہی رہوں گی کیونکہ یہاں رہ کر کم از کم میں اپنے والدین کی مدد تو کر سکتی ہوں۔ اگر میں واپس لندن چلی گئی تو میں خود تو محفوظ ہوں گی لیکن میرا دھیان اپنے والدین کی خیریت میں ہی لگا رہے گا۔

یہ سوال کہ کیا میں پریشان ہوں؟ تو ہاں میں بہت پریشان ہوں۔

میں خوراک،ادویات اور پانی کی کمی کے خطرے سے پریشان ہوں۔ مجھے خصوصاً اپنے والد کی فکر ہے جو ذیابیطس اور دل کے مریض ہیں۔ لیکن اب فی الحال یہی زندگی ہے اور میں اسے بہتر طریقے سے گزارنے کی کوشش میں ہوں۔ میں بہتر حالات کے لیئے پرامید اور دعاگو ہوں۔ یہ میرا ملک جو ابھی خانہ جنگی کے اثر سے بہار نکلا ہی تھا ایک مرتبہ پھر تباہ کر دیا گیا ہے۔

وویک نے کیا دیکھا
بی بی سی کے وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا
اسرائیل، حزب اللہشاعرانہ سفارتکاری
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ پر بحث
فضائی یا زمینی حملے؟
لبنان میں زمینی آپریشن کی ضرورت کیوں؟
احتجاج، اشتعال
اسرائیلی حملے: تباہی ہی تباہی
امریکہ کیا چاہتا ہے؟
شامی،ایرانی طاقت کا خاتمہ، امریکی مقصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد